|
آیت الله سید محمد ضیاء آبادی ـ دام ظلّه العالی ـ می فرماید: «در روایتی از حضرت امام جعفر صادق(ع) راجع به «مختاربن ابی عبیدۀ ثقفی» کُشندۀ قاتلان امام حسین(ع) نقل شده که روز قیامت پیامبر اکرم، امیرالمؤمنین، امام حسن و امام حسین(ع) از کنار جهنم عبور می کنند؛ در آن حال از میان جهنم فریادی بلند می شود که سه بار می گوید: یا رسول الله! به فریادم برس. رسول خدا(ص) اعتنا نمی کند. بار سوم سه بار فریاد می کشد: یا حسین! یا ح...سین! یا حسین! به دادم برس، من کُشندۀ دشمنان و قاتلان تو هستم. این بار رسول خدا(ص) به امام حسین(ع) می فرمایند: حسین! او حجت را بر تو تمام کرد، اجابتش کن! امام حسین(ع) مانند باز شکاری که از آسمان فرود می آید و طعمه اش را می رباید، دست دراز می کند و او را از جهنم بیرون می کشد. راوی می¬گوید، از امام صادق(ع) پرسیدم: او کیست که از میان جهنم استغاثه می¬کند؟ امام فرمود: او مختار است. عرض نمودم: او چرا جهنمی شده با آنکه او کار بزرگی کرده و قاتلان امام حسین(ع) را هلاک نموده است؟ امام فرمود: در قلبش، اندکی گرایش به آن دو نفر (ابوبکر و عمر) داشته است. آنگاه فرمود: «والّذی بعثَ محمداً بِالحقِّ لو ان جبرئیل و میکائیل کان فی قلبیهِما شیء لأكبهما الله فی النّارِ علی وجوهِهِما»؛ «قسم به خدایی که محمد را به حق برانگیخته است، اگر جبرئیل و میکائیل هم در قلبشان اندک گرایشی به آنها باشد، خدا آنها را به صورت، در میان آتش می افکند». منبع روایت :بحارالانوار: ج45 /ص339 منبع مطلب:کتاب سفینة الحسین(ع)See More
+ نوشته شده در یکشنبه بیست و هفتم بهمن ۱۳۹۲ساعت 22:10  توسط سید انعام علی نقوی
|
مصر کی ”الازہر “یونیور سٹی کے فارغ التحصیل اہل سنت کے ایک عالم دین جن کا نام ”شیخ محمد مرعی انطاکی “تھا اور یہ شام کے رہنے والے تھے انھوں نے اپنی بہت ہی عظیم تحقیق کے بعد مذہب تشیع اختیار کر لیا، وہ اپنی کتاب ”لما ذا اخترت مذہب الشیعة“میں اپنے مذہب شیعہ اختیار کرنے کے سلسلہ میں تمام علل واسباب کے مدارک لکھتے ہیں۔ یہاں پر اہل سنت سے ان کا ایک مناظرہ نقل کر رہے ہیں جو خاک شفا پر سجدہ کرنے کے سلسلے میں ہوا تھا ملاحظہ فرمائیں: محمد مرعی اپنے گھر میں بیٹھے ہوئے تھے چند اہل سنت ان کے گھر پر ان سے ملاقات کے لئے آئے جن میں ان کے کچھ جامعہ ازہر کے پرانے دوست بھی تھے۔گھر پر گفتگو کے دوران بات چیت یہاں تک پہنچ گئی۔ علماء اہل سنت: ”تمام شیعہ حضرات خاک شفا پر سجدہ کرتے ہیں اسی وجہ سے وہ مشرک ہیں“۔ محمد مرعی: ”خاک شفا پر سجدہ کرنا شرک نہیں ہے کیوں کہ شیعہ خاک شفا پر خدا کے لئے سجدہ کرتے ہیں نہ کہ مٹی کا سجدہ کرتے ہیں البتہ تمہارے فکر میں اگر اس میں کوئی چیز ہے اور شیعہ اس کا سجدہ کرتے ہیں تو وہ شرک ہے لیکن شیعہ اپنے معبود خدا کے لئے سجدہ کرتے ہیں نتیجہ میں وہ خدا کے سجدہ کے وقت اپنی پیشانی کو خاک پر رکھتے ہیں۔اس سے واضح یہ کہ حقیقت سجدہ، خدا کے سامنے خضوع وخشوع کا آخری درجہ ہے نہ کہ خاک شفا کے سامنے خضوع وخشوع ہے۔ ان میں سے ایک حمید نامی شخص نے کہا تمہیں اس چیز کی میں داد دیتا ہوں کہ تم نے بہت ہی اچھا تجزیہ کیا لیکن ہمارے لئے ایک اعتراض باقی رہ جاتا ہے، اور وہ یہ کہ تم لوگ (شیعہ)کیوں اس چیز پر مصر ہو کہ خاک شفا پر ہی سجدہ کیا جائے اور جس طرح مٹی پر سجدہ کرتے ہو اسی طرح دوسری تمام چیزوں پر سجدہ کیوں نہیں کرتے محمد مرعی: ”ہم لوگ اس بنیاد پر خاک پر سجدہ کرتے ہیں کہ پیغمبر اسلام صلی الله علیه و آله وسلم نے ایک حدیث جو تمام فرقوں میں پائی جاتی ہے فرمایاہے: ”جعلت لی الارض مسجدا وطہورا“ ”زمین میرے لئے سجدہ گا ہ اور پاک وپاکیزہ قرار دی گئی ہے“۔ حمید:کس طرح تمام مسلمان اس نظریہ پر اتفاق نہیں رکھتے ہیں ؟“ محمد مرعی: ”جس وقت پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے مکہ سے مدینہ کی طرف ہجرت کی اسی وقت آپ نے مسجد بنا نے کاحکم دیا کیا اس وقت اس مسجد میں فرش تھا؟“ حمید: ”نہیں فرش نہیں تھا“۔ محمد مرعی: ”بس پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم اور اس وقت کے تمام مسلمانوں نے کس چیز پر سجدہ کیا تھا؟“ حمید: ”مسلمانوں نے اس زمین پر سجدہ کیا تھا جس کا فرش خاک سے بنا ہوا تھا“۔ محمد مرعی: ”بعد رحلت پیغمبر صلی الله علیه و آله وسلم ابو بکر ،عمر اور عثمان کی خلافت کے زمانہ میں مسلمانوں نے کس چیز پر سجدہ کیا؟کیا اس وقت مسجد میں فرش تھا؟“ حمید: ”نہیں فرش نہیں تھا۔ان لوگوں نے بھی مسجد کی زمین پر سجدہ کیا تھا“۔ محمد مرعی: ”تمہارے اس اعتراض کی بنیاد پر پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے تمام نمازوں کے سجدے زمین پر کئے ہیں اس طرح تمام مسلمان نے آنحضرت کے زمانے میں اور ان کے بعد بھی زمین پر ہی سجدہ کیا بس انھیں وجوہ کی بنا پر خاک پر سجدہ کرنا صحیح ہے“۔ حمید: ”ہمارا اعتراض یہ ہے کہ شیعہ صرف خاک پر سجدہ کرتے ہیں اور خاک زمین سے لی گئی ہے اسے سجدہ گاہ بنا دیا اور جس پر وہ اپنی پیشانیوں کو رکھتے ہیں اور سجدہ کے وقت اسی کو دوسری زمین پر رکھتے ہیں اور اس پر سجدہ کرتے ہیں“۔ محمد مرعی: ”اولاًیہ کہ شیعہ عقیدہ کے مطابق ہر طرح کی زمین پر سجدہ کرنا جائز ہے خواہ پتھر کا فرش ہو یا خاک کا فرش ہو۔ثانیا ً یہ کہ جہاں سجدہ کیا جائے وہ پاک ہو بس نجس زمین یا خاک پر سجدہ کرنا جائز نہیں ہے اسی وجہ سے وہ مٹی کا ایک ٹکڑا جو سجدہ گا ہ کی شکل کا بنا یا جاتا ہے وہ اپنے ساتھ رکھتے ہیں تاکہ اس بات کا اطمینان رہے کہ یہ پاک ہے اور اس پر سجدہ ہو سکتا ہے۔ حمید: ”اگر شیعوں کی مراد صرف پاک اور خاص مٹی پر سجدہ کرنا ہے تو کیوں اپنے ساتھ سجدہ گاہ رکھتے ہیں کیوں نہیں تھوڑی سے خاک اپنے پاس رکھتے ؟ محمد مرعی: ”اپنے ساتھ خاک رکھنے سے کپڑے وغیرہ گندے ہو سکتے ہیں کیونکہ خاک کی طبیعت ہے کہ اسے جہاں بھی رکھا جائے گا وہ اسے آلودہ کر دے گی شیعہ حضرات اسی وجہ سے اس خاک کو پانی میں ملا کر ایک خوبصور ت شکل کی سجدہ گاہ بنا لیتے ہیں تاکہ اسے اپنے ساتھ رکھنے میں زحمت نہ ہوا اور لباس گندہ نہ ہونے پائے۔ حمید: ”خا ک کے علاوہ بورئے اور قالین وغیر پر سجدہ کیوں نہیں کرتے ؟ محمد مرعی: ”جیسا کہ میں نے کہا کہ سجدہ کا مطلب یہ ہے کہ خدا کے سامنے آخری درجہ کا خشوع و خضوع کیا جائے، میں کہتا ہوں کہ خاک پر سجدہ کرنا خواہ وہ سجدہ گاہ ہو یا نرم خاک ہو خدا کے سامنے زیادہ خشوع و خضوعپر دلالت کرتا ہے کیونکہ خاک سب سے زیادہ حقیر چیز ہے اور ہم اپنے جسم کا سب سے عظیم حصہ (یعنی پیشانی)کوسب سے حقیر اور پست چیز پر سجدہ کے وقت رکھتے ہیں تاکہ خدا کی عبادت نہایت خشوع و خضوعسے کریں۔اسی وجہ سے مستحب ہے کہ جائے سجدہ ،پیر اور اعضائے بدن سے نیچی ہو تاکہ زیادہ سے زیادہ خضوع وخشوع پردلالت کرے اور اسی طرح یہ بھی مستحب ہے کہ ناک کی نوک خاک میں آلودہ ہوتاکہ زیادہ سے زیادہ خضوع وخشوع کا اظہار ہو۔خاک کے ایک ٹکڑے (سجدہ گاہ)پر سجدہ کرنا اسی وجہ سے تمام چیزوں سے بہتر ہے اگر کوئی انسان اپنی پیشانی کو ایک بہت ہی قیمتی سجدہ گاہ پر سونے چاندی کے ٹکڑے پرسجدہ کرے تو اس سے اس کے خضوع وخشوع میں کمی آجاتی ہے ، اور کبھی بھی ایسابھی ہوسکتا ہے کہ بندہ خدا کے سامنے اپنے کو چھوٹا اور پست شمار نہیں کرے گا۔ اسی وضاحت کے ساتھ کہ آیا کسی شخص کے خشک مٹی (سجدہ گاہ) پر سجدہ کرنے سے تاکہ اس کا خضوع وخشوع خدا کے نزدیک زیادہ ہو جائے وہ مشرک اور کافر ہوجائے گا؟لیکن قالین ،سنگ مرمر اور قالین و فرش وغیرہ پر سجدہ کرنا خضوع وخشوع میں زیادتی کرتا ہے اور تقرب خدا کا سبب بنتا ہے ؟ اس طرح کا تصور کرنے والا شخص غلط اور گھٹیا فکر کامالک ہے“۔ حمید: ”یہ کیاہے جو شیعوں کی سجدہ گاہ پر لکھا ہوا ہوتا ہے؟“ محمد مرعی: ”اولاً یہ تمام سجدہ گاہوں پر لکھا ہوا نہیں ہوتا بلکہ اکثر ایسی ہیں جن پر کچھ نہیں لکھا ہوتا ہے ثانیاً بعض پر لکھا بھی ہوتا ہے تو وہ ”سبحان ربی الاعلیٰ وبحمدہ‘ ‘ہے جو ذکر سجدہ کی طرف اشارہ کرتاہے اور بعض سجدہ گاہ پر لکھا ہوا ہوتا ہے کہ یہ مٹی کربلا سے لی گئی ہے تمہیں خدا کی قسم ہے آیا یہ لکھے ہوئے کلمات موجب شرک ہیں؟اور آیا یہ لکھے ہوئے کلمات مٹی کو مٹی ہونے سے خارج کردیتے ہیں؟ حمید: ”نہیں یہ ہرگز موجب شرک نہیں ہے اور اس پر سجدہ کرنے میں عدم جواز پر کوئی دلیل بھی نہیں ہے لیکن ایک دوسرا سوال یہ کہ خاک شفا کیا خصوصیت رکھتی ہے کہ اکثر شیعہ خاک شفا پر ہی سجدہ کرنے کو ترجیح دیتے ہیں؟“ محمد مرعی: ”اس کا راز یہ ہے کہ ہمارے ائمہ اہل بیت علیہم السلام سے روایت ہے کہ خاک شفا ہر خاک سے افضل و برتر ہے۔امام جعفر صاد ق علیہ السلام نے فرمایا ہے: ”السجود علی تربة الحسین یخرق الحجب السبع“۔[1] ”خاک شفا پر سجدہ کرنے سے ساتھ حجاب ہٹ جاتے ہیں“۔ یعنی نماز قبولیت کے درجہ تک پہنچ جاتی ہے اور آسمان کی طرف جاتی ہے نیز یہ بھی روایت ہے کہ آپ خدا کی بارگاہ میں تذلل اور انکساری کی وجہ سے صرف خاک شفا پر سجدہ کرتے تھے۔[2] اس بنا پر خاک شفا میں ایک ایسی فضیلت ہے جو دوسری خاک میں نہیں پائی جاتی ہے“۔ حمید: ”آیا خاک شفا پر سجدہ کرنے سے نماز قبول ہوتی ہے اور اس کے علاوہ اور کسی مٹی پر سجدہ کرنے سے نماز قبول نہیں ہوگی ؟ محمد مرعی: ”مذہب شیعہ کہتا ہے اگر آپ نماز کے شرائط صحت سے کوئی بھی شرط فاقد ہو جائے تو نمازباطل ہے اور قبول نہیں ہوگی لیکن اگرنماز کے تمام شرائط پائے جاتے ہیں اور اس کا سجدہ خاک شفا پر کیا گیا ہو تو نماز قبول بھی ہوگی اور ساتھ ساتھ وہ اہمیت کی بھی حامل ہوگی اور اس کا ثواب زیادہ ہو جائے گا۔ حمید: ”کیا زمین کربلا تمام زمینوں حتی مکہ اور مدینہ کی زمینوں سے بھی افضل وبرتر ہے تاکہ یہ کہا جائے کہ خاک شفا پر نماز پڑھنا تمام خاک سے افضل و برتر ہے؟“ محمد مرعی: ”اس میں کیا اعتراض ہے کہ خدا وند عالم نے خا ک کربلا ہی میںاس طرح کی خصوصیت قرار دی ہو“۔ حمید: ”زمین مکہ جو جناب آدم علیہ السلام سے لے کر آج تک مقام کعبہ ہے اور مدینہ کی زمین جس میں پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کا جسم مبارک مدفون ہے کیا ان کا مقام ومنزلت کربلا کی زمین سے کمتر ہے؟ یہ بڑی عجیب بات ہے کیا حسین علیہ السلام اپنے جد پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم سے افضل و برتر ہیں؟ محمد مرعی: ”نہیں ہر گز نہیں بلکہ امام حسین علیہ السلام کی عظمت ومنزلت ان کے جد رسول کی وجہ سے ہے لیکن خاک کربلا کو فضیلت حاصل ہونے کے سلسلے میں یہ راز ہے کہ امام حسین علیہ السلام اس سر زمین پر اپنے نانا کے دین کی راہ میں شہید ہوئے ہیں امام حسین علیہ السلام اور ان کے اصحاب اور خاندان کے لوگوں نے شریعت محمد ی کی حفاظت اور اس کی نشر واشاعت کے سلسلہ میں اپنی جانیں قربان کی ہیں اس وجہ سے خداوند عالم نے انھیں تین خصوصیتیں عنایت فرمائی ہیں۔ ۱۔آپ کے مرقد شریف میں گنبد کے نیچے قبولیت دعا کی ضمانت۔ ۲۔تمام دیگر ائمہ علیہم السلام آپ کی نسل سے ہیں۔ ۳۔آپ کی خاک (خاک کربلا)میں شفا ہے۔ آیا اس طرح خاک کربلا کو خصوصیتیں عطا کرنا کوئی اعتراض کا مقام ہے؟ کیا زمین کربلا کو زمین مدینہ سے افضل کہنے کا یہ مطلب ہوا کہ امام حسین علیہ السلام اپنے نانا رسول خدا صلی الله علیه و آله وسلم سے افضل وبرتر ہیں؟اور تمہیں اس طرح اعتراض کرنے کا موقع مل جائے؟نہیں بلکہ مطلب اس کے بر عکس ہے یعنی امام حسین علیہ السلام کا احترام ان کے جد رسول خدا صلی الله علیه و آله وسلم کا احترام ہے اور رسول اکرم کا احترام خدا کا احترام ہے“۔ جب یہ بات یہاں تک پہنچی تو انھیں میں سے ایک شخص جو قانع ہو چکا تھا وہ خوش ہو کر وہاں سے اٹھا اور میری تعریف و تمجید کرنے لگا اور اس نے شیعوں کی کتابوں کی درخواست کرتے ہوئے مجھ سے کہا: ”تمہاری باتیں نہایت سنجیدہ اور مستحکم ہیں ابھی تک میں خیال کررہا تھا کہ شیعہ امام حسین علیہ السلام کو رسول خدا صلی الله علیه و آله وسلم سے افضل وبرتر سمجھتے ہیں۔آج مجھے حقیقت معلوم ہوئی، تمہارے اس حسین بیان پر تمہار ا بہت شکر گزار ہوں۔آج کے بعد سے میں بھی خاک شفا کی سجدہ گاہ اپنے ساتھ رکھو ںگا اور اس پر نماز پڑھوں گا۔[3]
+ نوشته شده در جمعه بیست و پنجم بهمن ۱۳۹۲ساعت 15:50  توسط سید انعام علی نقوی
|
پیغمبراکرم (ص) نے فرمایا : جعلت لی الارض مسجداً وطھوراً (١)خداوند عالم نے میرے لئے زمین کو سجدہ گاہ (سجدہ کرنے کی جگہ ) اور پاکی کا وسیلہ قرار دیاہے ۔ یعنی سجدہ زمین اور ہر اس چیز کے اوپر جس پر کلمہ ''زمین '' لغت ،عرف اورشرع میں صادق آجائے ،انجام پانا چاہئے مثلاً مٹی ، روڑی ، پتھر ،کیچڑ، اس بنأپر ،سجدہ کرنا اس چیز پرجس پر زمین صادق نہ آجائے ،جائز نہیں ہے مثلاً روئی پر ،بالوں پر اورریچھ کے بالوں پر ، لفافہ (پلاسٹک ) اون کے فرش پرپنبہ اور ان جیسی چیزوں پرمثلاً جنس زمین شمار نہ ہونے والے پلاسٹک پر سجدہ کرنا ،پس مذکورہ اورصحاح اور وغیرہ وغیرہ کی احادیث کی طرف توجہ کرتے ہوئے کہ وہ سجدہ کرنا صرف زمین پر جائز جانتی ہیں ، سجدہ کرنا اس پر جائز نہیں ہے ۔ اہل سنت کے منابع کی احادیث: ابن عباس کہتے ہیں : رسول خدا(ص) نے فرمایا: اُمرت ُ اَنْ اسجد علی سبعۃ لا اکف الشعر ولا الثیاب ولا الجبھۃ ولانف والیدین والرکبتین والقد مین (٢)مجھے سات چیزوں پرسجدہ کرنے کا حکم دیا گیااورمیں اپنے لباسوں کو چھوڑدوں تاکہ وہ زمین سے لگ جائیں :ماتھا ،ناک ، ہاتھوں ، کی د وہتھیلیاں ، دو گھٹنے اوردوپاؤں ۔ جابر ابن عبد اللہ انصاری کہتے ہیں :ہم پیغمبرکے ساتھ نماز پڑھ رہے تھے میں نے ریت کی ایک مٹھی اٹھائی اور اس کو میں اپنے ہاتھ میں سرد کررہا تھا اس کے بعد اپنے دوسرے ہاتھ میں لیتاتھا اورجب میں سجدہ کرنے نیچے جاتا تھا تو اس کو میں زمین پر رکھ دیتا تھا تاکہ اپنا ماتھا اس کے اوپر رکھوں ۔ (٣) ہم اس روایت سے استفادہ کرتے ہیں کہ پیغمبر(ص) کے اس جلیل القدر صحابی '' جابر ابن عبداللہ انصاری '' کا کام رسول خدا(ص) کے حضور میں تھا ، پس پیغمبرکی سکوت اورتائید سجدہ کے جائز ہونے پر بہترین گواہ ہے ،بلکہ زمین کے اوپر اور ہر اس چیز کے اوپرجس پر زمین صادق آجائے ،واجب ہو نے پر گواہ ہے اور اگر زمین کے علاوہ دوسری چیز پر سجدہ کرنا جائز ہوتا، تو یہ صحابی اس پر سجدہ کرنے یا کم ازکم پیغمبر(ص) اس کو زمین کے علاوہ کسی دوسری چیز پر سجدہ کرنے کا حکم دیتااور اس کو سجدہ کرنے کے لئے ریت سرد کرنے کی ضرورت نہ پڑتی ۔ بعض احادیث بھی اس پر دلالت کرتی ہےں کہ لباس پر سجدہ کرنا، صرف ضرورت کی حالت میں (مثلاً گرمی سے محفوظ رہنے کی حالت میں )جائز ہے انس کہتاہے: جب ہم پیغمبر(ص) کی اقتداء میں نماز ظہر پڑھتے تھے، تو ہم گرمی سے محفوظ رہنے کے لئے ، اپنے لباسوں پر سجدہ کرتے تھے ۔ (٤)رفاعۃ ابن مالک کہتاہے : ر سول خدا(ص) نے ایک شخص کو اپنی پیشانی زمین پررکھنے اور اپنے بدن کے اعضاء قرار پکڑنے اور اس کے بعد تکبیر کہنے اپناسر اونچا کرنے اور دوبارہ تکبیر کہنے اور بیٹھے ،اور اپنے پاؤں کو برابر کرنے اور ان کوایک دوسرے کے ساتھ ملانے یہاں تک کہ اس کی کمر آرام پکڑے اوردوبارہ سجدہ میں جانے یہاں تک کہ اس کی پیشانی زمین تک پہنچ جائے اور اس کے بدن کے اعضاء آرام پکڑیں کا حکم دیا۔ اگر تم میں سے کوئی یہ کام انجام نہ دے ، تو اس کی نماز کامل نہیںہوگی۔(٥)ابو سعید کہتاہے : پیغمبراعتکاف میں جاتے تھے وغیرہ وغیرہ وہ حدیث کی تعقیب میں کہتاہے : پیغمبرنے فرمایا مجھ کو آج رات تم نے دیکھا ؟ کیا تم نے بھول دیا کہ میں صبح کو مٹی پر سجدہ کررہاتھا؟ ابو سعید کہتاہے :میں نے اکیسویں کی صبح کو حضرت کی پیشانی مبارک اوران کی ناک اور ان کی آنکھوں میں پانی اور مٹی کااثر دیکھا ۔ (٦) بخاری نے ایک صحیح روایت میں اسماعیل سے ، اس نے ابن ابی اویس سے ، اوراس نے مالک سے اور مسلم نے بھی ابن الھاد سے د وسری دوراہوں کے ذریعے یہی روایت نقل کی ہے ۔عکرمہ کہتاہے : ایک دن پیغمبر(ص) نے ایک مردکودیکھا کہ جب وہ سجدہ کرتا ہے تو وہ اپنی ناک زمین کے اوپر نہیں رکھتاتھا ، حضرت نے فرمایا: جس شخص کی ناک اس کی پیشانی کی طرح زمین کو نہ لگ جائے ، تواس کی نماز قبول نہیںہے ۔ جابر ابن عبداللہ انصاری نے دوراویوں سے نقل کیاہے : کہ میں رسول اللہ کے ساتھ نماز ظہر پڑھ رہا تھا ۔ اور شدید گرمی کی وجہ سے میں اپنے ہاتھ میں ریت لیتا تھا تاکہ وہ سرد ہوجائے اور سجدہ کے وقت می اس پریشانی رکھ دیتا تھا ۔ بیہقی کہتاہے : اگر سجدہ کرنا اس لباس پرجو بدن پر ہے نصف جائز ہوتا، تو اس پر سجدہ کرنا زیادہ آسان اور ہاتھ میں ریت سرد کرنے سے بہتر تھا ۔ (٧) معاویہ ابن صالح نے عیاض ابن عبداللہ قرشی سے نقل کیا ہے کہ ایک دن پیغمبر(ص)نے ایک آدمی کو اپنے عمامہ کے گرہ پر سجدہ کرتے ہوئے دیکھا ، تو حضرت نے اشارہ سے ا سکو عمامہ اٹھانا سمجھایا اوراس کے بعد اس کی پیشانی کی طرف اشارہ کیا ۔ (٨) حدیث میں آیاہے : فَمن لم یمکن شیاً من الارض احرقہ اللہ باالنار ؛ :جو کوئی اپنے بدن میں سے ایک حصہ کو سجدہ میں زمین تک نہ پہنچائے ، تو خدا وند عالم اس کو آگ میں جلائے گا ۔(٩) مَنْ لم یلذق أنفہ مع جبھتہ باالارض اذا سجد لم تجز صلواتہ(١٠)جو کوئی سجدہ میں اپنے ماتھے کے ساتھ اپنی ناک زمین تک نہ پہنچائے ، تو اسکی نماز صحیح نہیں ہے ۔ابن عباس کہتاہے : پیغمبرنے سات اعضاء پر سجدہ کرنے کا حکم دیااور بالوں اورلباسوں کو آگے سے نہ پکڑا جائے تاکہ وہ زمین تک پہنچیں :پیشانی ،دوہاتھ دو زانو اوردو پیر(١١) احمد نے وائل سے نقل کیاہے :میں نے پیغمبر(ص)کو زمین پر سجدہ کرتے ہوئے اور اس کی پیشانی مبارک اور ناک سجدہ میں زمین پر ہونے کی حالت میں دیکھا ۔ (١٢) انس کہتاہے :ہم پیغمبر(ص) کے ساتھ نماز پڑھ رہے تھے ہوا بہت گرم تھی اورہم میں سے ہر ایک اپنی پیشانی زمین پر نہیں رکھ سکتا تھا ، ہم اپنالباس بچھاتے اور اس پر سجدہ کرتے تھے ۔ (١٣)محدثین میں سے ایک گروہ نے یہ روایت نقل کی ہے ۔یہ حدیث گرمی سے بچنے کے لئے لباس پر سجدہ کرنے کے جائز ہونے پر دلالت کرتی ہے اوریہ کہ لباس پر سجدہ کرنا صرف گرمی کے برداشت کرنے کی صورت میں وارد ہوئی ہے، اس مطلب کی طرف اشارہ کرتی ہے کہ سجدہ میں اصل ، ز مین تک پیشانی پہنچانی ہے ۔ان متواتر احادیث سے کہ جوصحاح اوروغیرہ وغیرہ میں نقل ہوئی ہےں ، سمجھا جاتاہے کہ: زمین پر ضروری سجدہ کیا جانا چاہئے ،پس شیعہ اثنا عشری کا مٹی کے ایک مقدار پر سجدہ کرنا وہی پیغمبر(ص) اکرم اور اس کے معزز اہلبیت کی احادیث شریفہ پرعمل وتمسک کرنا ہے ۔ بعض کہتے ہیں : جس طرح کہ صحاح میں آیاہے ،پیغمبر اپنے عمامہ کے گرہ پر سجدہ کرتے تھے یہ نظریہ ابو حنیفہ ،مالک اوراحمد (ان دو نظریوں میں سے ایک نظریہ میں جو اس سے نقل ہوئے ہیں ) نے قبول کیاہے ۔ لیکن شیعہ ایسا سجدہ کرنا جائز نہ ہونے کے قائل ہیں شافعی اوراحمد (اس د وسرے نظریہ میں کہ جو اس سے نقل ہوا ہے ) شیعوں کے ساتھ ہم عقیدہ ہیں ؛ کیونکہ پیغمبر(ص)کا عمامہ کے گرہ پر سجدہ کرنا ثابت نہیں ہواہے بلکہ پیغمبر(ص) اس کام سے نہی بھی کرتے تھے ۔ عبد اللہ ابن عمر نے ابوھریرہ سے نقل کیاہے کہ پیغمبر(ص)نے اپنے عمامہ کے گرہ پر سجدہ کیاہے ، لیکن یہ بات صحیح نہیں ہے ، کیونکہ جس طرح کہ ابن حجر ، ابوحاتم اوردار قطنی نے کہا ہے عبداللہ کی احادیث پرعمل نہیں کی جاسکتی ہے۔بخاری کہتا ہے : عبداللہ کی احادیث پر عمل نہیں کی جائے گی ؛وہ دربار کے قضاۃ میں سے ایک قاضی تھا اور علماء رجال نے، ابو ھریرہ سے اس کے کے لئے حدیث سننا ذکر نہیں کیاہے ۔(١٤) حافظ ابن حجر کہتاہے : کسی بھی صحیح یا حسن حدیث میں ثابت نہیںہوا ہے کہ پیغمبر (ص) نے اپنے عمامہ کے گرہ پر سجدہ کیاہو ۔ شیعوں نے ، سجدہ کی جگہ کے پاک اورمباح ہونے کے علاوہ ،شرط کیاہے : جس چیز پر سجدہ کیا جاتاہے ، وہ زمین اورنہ کھانے والے اور نہ پہننے والے گھاس میں سے ، ہونی چاہئے ،سجدہ روئی اورکتان کے لباسوں یا ان لباسوں پر جو د وسرے گھاسوں سے بنائے جاتے ہیں ، صحیح نہیں ہے ۔اسی طرح ان چیزوں پر سجدہ کرنا جن پر زمین کا نام صادق نہیں آتاہے اورمعادن کے جزء شمار ہوتے ہیں ،جائز نہیں ہے ، مثلاً سونا اورچاندی ۔زمین پر سجدہ کرنا افضل اوربہتر ہے ؛کیونکہ زمین پر سجدہ کرنے سے ، ہم خداوند عالم کے سامنے اپنی طرف سے زیادہ تواضع وفروتنی کی نشاندہی کرتے ہیں ۔ (١٥) وہ روایات جو ائمہ اطہار نے نقل کی ہیں : بصری کہتاہے : میں نے امام صادق سے پوچھا : اس آدمی کا حکم جس کے سر پر عمامہ ہے اور اس کی پیشانی سجدہ کرنے کے وقت زمین ،پر نہیں پہنچتی ہے ، کیا ہے ؟ انہوں نے فرمایا :لا یجزیہ ذالک حتی تصل جبھتہ الی الارض : جب تک کہ اسکی پیشانی تک نہ پہنچے ،کافی نہیں ہے (١٦)ہشام ابن حکم نے ایک صحیح روایت میں امام صادق سے پوچھا : سجدہ کرنا کن چیزوں پر صحیح اورکن چیزوں پر باطل ہے ؟ حضرت نے فرمایا :لا یجوز السجود الا علی الارض او علی ما انبتت الارض الا ما اُکل اَوْلبس ؛سجدہ صرف زمین اور نہ کھانے اورنہ پہننے والی چیزوں پر جائز ہے ۔ میں نے عرض کیا : میں آپ پر قربان ہوجاؤں !کیوں تو انہوں نے فرمایا : لِاَنَّ السجود خضوع للہ عز وجل ،فلاینبغی اَنْ یکون علی ما یوکل ویلبس لانَّ ابناء الدنیا عبید ما یاکلون ،ویلبسون والساجد فی سجود فی عبادۃ اللہ عزوجلّ فلا ینبغی ان یضع جبھتہ فی سجود ہ علی معبود ابناء الدنیا الذین اغتروا ، بغرورھا ؛کیونکہ سجدہ کرنا خداوند عالم کے سامنے خضوع اورخشوع ہے ؛پس اچھانہیں ہے کہ وہ کھانے اورپہننے والی چیزوں پر ہو ، کیونکہ دنیا پر ست لوگ کھانے اور پہنے کی چیزوںکے بندے ہیں سجدہ کرنے والا سجدہ کرنے کی حالت میں ، خداوند عالم کی بندگی کرتاہے ، بس اچھا نہیں ہے کہ نماز پڑھنے والا ، اپنی پیشانی سجدہ میں ان دنیا پرستوں کے معبود پر جن دنیا پرست کو دنیا نے دھوکہ دیا، قراردے ۔فضل ابن عبدالملک نے ایک صحیح روایت میں نقل کیاہے کہ :حضرت امام صادق نے فرمایا : لایجد الا علی الارض اوما انبتت الارض الاالقطن والکتان ، (١٧)سجدہ کرناروئی اور کتان کے علاوہ صرف زمین اورگھاس پر صحیح ہے ۔ شیعوں کی نظر میں کاغذ پر سجدہ کرنا صحیح ہے : صفوان جمال کہتاہے : میں نے حضرت امام صادق کو کجاومیں کاغذپر سجدہ کرتے ہوئے دیکھا ۔(١٨)علی ابن مھر یار نے ایک صحیح روایت میں ذکرکیاہے : داؤد ابن فرقہ نے امام موسیٰ کا ظم سے پوچھا کیا لکھئے ہوئے کاغذوں پر سجدہ کرنا صحیح ہے ؟ حضرت نے اس کے جواب میں لکھا : صحیح ہے۔(١٩)امامیہ کا اجماع ، اس پر ہے کہ سجدہ کی جگہ پاک ہونی چاہئے اورسجدہ زمین اور نہ کھانے اورنہ پہننے والی (جیسے کاغذ)گھاس پرانجام پانا چاہئے۔اسی بنأ پر ، ان چیزوں پر سجدہ کرنا جن کو زمین نہیں کہی جاتی ہے اورمعادن میں سے شمارہوتی ہیں ،صحیح نہیں ہے جیسے سونا ، چاندی ،عقیق،فروزہ ،(٢٠) تارکول اور اسی طرح ان چیزوں پر سجدہ کرنا کہ جن کو گھاس نہیں کہتے ہیں جیسے راکھ ،کوئلہ اوران جیسے چیزوں پر کھانے اورپینے والی چیزوں پر بھی سجدہ کرنا صحیح نہیں ہے ۔ جیسے روٹی ، رو ئی اورکتان ۔ تمام پتھروں پرسجدہ کرنا صحیح ہے ،کیونکہ پتھرات جیسے مٹی ، روٹی اورریت زمین شمار ہوتی ہیں اس بنأپر شیعہ اثناعشری مذہب میں زمین سے مراد نہ وہ ہے جو آسمان کے مقابل میں ہے ؛ بلکہ وہ زمین ہے جس پر تیمم کرنا صحیح اور اس طہارت کے مقابل میں ہو جو پانی سے حاصل ہوتاہے ۔اختیار کی حالت میں مٹی کے برتن ،اینٹ پختہ آھک اورپختہ چونے پر سجدہ کرنا صحیح نہیں ہے ، لیکن پکانے سے اور پختہ ہونے سے پہلے کو ئی اشکال نہیں ہے اگر فقہا کوو اس مسئلہ میں اختلاف ہے کیونکہ کہ بعض ان پر سجدہ کرنا حتٰی پختہ ہونے کے بعد جائز ہونے کے قائل ہیں ؛ پس ہر ایک کو اپنے مرجع کے حکم پر عمل کرنا چاہئے (٢١) شیشہ پر بھی سجدہ کرنا جائز نہیں ہے بعض فقہا جڑی بوٹی دواؤں اورمحلی ادوایات جیسے گاوزبان کے پھول ،پودینہ اوروغیرہ وغیرہ چےزوں پر سجدہ کرنا جائز جانتے ہیں اوربعض دوسرے اس صورت میں کہ اگر ان کا کھانا اور پینا متعارف ہوگا ان پر سجدہ کرنے پر اشکال کرتے ہیں حیوانی خوراکیوںپر سجدہ کرنے میں کوئی اشکال نہیںہے جیسے گندم کا گھاس اور سبز گھاس ، لیکن چائے اور قھوہ کے پتوں پر سجدہ کرنا صحیح نہیں ہے کیونکہ یہ دو عرف میںخوراک میں شمار ہوتے ہیں اخروٹ اور بادام پر سجدہ کرنا صحیح نہیں ہے لیکن ان کے چھلکے پر سجدہ کرنا صحیح ہے ۔خرما کی گھٹلی ،پتے درختوں کے چھلکو ںاورخرما کے درخت کی ٹہنی پر سجدہ کرنا صحیح ہے ۔ زمین پر سجدہ کرنا گھاس اورکاغذ پر سجدہ کرنے سے بہتر ہے اوربعید نہیں ہے کہ مٹی پر سجدہ کرنا پتھر سے افضل ہوگا شیعہ امامیہ قائل ہیں کہ سجدہ کے لئے بہترین چیز ، تربت امام حسین ہے ۔کیونکہ امام حسین کی مٹی سات حجابوں سے گزرتی ہے اورسات زمینوں کو نورانی کرتی ہے ۔ اس بارے میں اہلبیت کی طرف سے ہم تک کچھ روایات پہنچی ہیں : معاویہ ابن عمار کہتاہے : امام صادق کے پاس زردرنگ اور ابراشم (زربافت ) کا ایک کپڑا تھا کہ جس میں تربت امام حسین تھی وہ نماز کے وقت اس کو جائے نماز میں رکھ دیتے تھے اور اسی پر سجدہ کرتے تھے اورفرماتے تھے : ان السجود علی تربۃ ابی عبداللہ بخرق الحجب السیع:امام حسین کی مٹی پر سجدہ کرنا سات پردوں سے گزرتاہے ۔(٢٢) امام صادق نے فرمایا : السجود علی طین قبر الحسین ینور الی الارضین السبع ؛امام حسین کی مٹی پر سجدہ کرنا سات زمینوں کو نورانی کرتاہے ۔ (٢٣)یہ بات بعید نہیں ہے ؛کیونکہ یہ پاک مٹی ،کلمہ توحید اور اہلبیت پیغمبر کے اشعار کو بلند کرنے کی راہ میں رسالت ونبوت کی حفاظت ہے ؛ کیونکہ محمد (ص) نے اسلام لایا اور حسین اس کے بقاء کا ضامن ہوا ۔ (اسلام ،محمدی الوجود اورحسینی البقاء ہے ) وہ محمدی خاندان کے فخر کی علامت ،خدا کے دین اورخیانت کرنے والوں کے ہاتھوں سے انسانی امور کی رہائی کی راہ میں ایثار وقربانی ہے ۔جس طرح امام حسین نے فرمایا : ان کان دین محمد لم یستقم الا بقتلی فیا سیوف خذ ینی ! ؛اگر محمد کا دین میرے قتل کے بغیر پائیدار نہیں رہے گا تو اے تلوارو آؤ !مجھ پر ٹوٹ پڑو ۔اس کے علاوہ نقل ہوا ہے کہ کربلا دوسو پیغمبر وں دوسو پیغمبروں کے وصیوں (٢٤)کا مدفن جنت کے باغوں میں سے ایک باغ ،(٢٥)فرشتوں کے آنے جانے کی جگہ اور ہر پندر ہویں شعبان کی رات میں پیغمبروں کی ارواح کے جمع ہونے کی جگہ ہے ۔(٢٦) لیکن یہ کہ حضرت نے فرمایا: '' تخرق الحجب السبع؛وہ سات پردوں سے گزرتی ہے '' ۔ تو اس کا معنی نماز قبول ہونا ہے بغیر اس کے کہ وہ چیزیں کہ جو نماز قبول ہونے سے جلوگیری کرتی ہیں اور انسان کی نیت کے خالص ہونے پر عارض ہوتی ہےں مانع ہوجائیں اوریہ کہ انہوں نے فرمایا: '' ینورا الی ارضین السبع ؛وہ سات زمینوں کو نورانی کرتاہے '' قرآن اورروایات میں اس جیسا نوربہت زیادہ استعمال ہواہے ۔ خداوندعالم فرماتاہے (یَوْمَ تَرَی الْمُؤمِنِیْنَ وَالْمُوْمِنَاتِ یَسْعٰی نُورُھُمْ بَیْنَ اَیْدِھِمْ )(٢٧) اس دن تم با ایمان عورتوں کو دیکھو گے کہ ان کا نور ان کے آگے آگے اورداہنی طرف چل رہا ہوگااوردوسری جگہیں جو قرآن میں آئیں ہیں یا وہ روایت جو شیعوں اورسنیوں نے حضرت رسول (ص) سے نقل کی ہے : اِتَّقُوا فراسۃ المؤمن فانہ ینظربنوراللہ ، مؤمن کی چالاکی سے بچو، کیونکہ وہ خدا کے نور سے دیکھتاہے ۔ (٢٨) یا د وسری جگہ فرماتاہے : نوّروا بیوتکم تلاوۃ القرآن ۔۔۔۔۔۔فانّ البیت اذا کثر فیہ تلاوۃ القرآن کثرخیرُہُ وتضئی لاھل السماء کماتضئی نجوم السماء لاھل الدنیا؛اپنے گھروں کو قرآن کی تلاوت سے منورونورانی کرو ۔۔۔۔۔۔ کیونکہ جب گھر وںمیں تلاوت زیادہ ہوتی ہے تو خیر وبرکت ان میں زیادہ ہوتی ہے اورجس طرح آسمان کے تارے زمین پر رہنے والوں کے لئے نوردیتے ہیں ، اسی طرح یہ گھر بھی آسمان پر رہنے والوں کے لئے روشنی دیتے ہیں۔(٢٩) اوردوسری بہت ساری روایات کہ جو قابل شمار نہیں ہیں یہ نور اس چیز سے زیادہ اونچا ہے کہ جس کو جسمانی حواس سے کہ جو صرف مادی اجسام کودرک کرتے ہیں درک کیا جاسکتاہے اس بنأپر تربت امام حسین پر سجدہ کرنا شیعہ واجب نہیں جانتے ہیں ؛بلکہ جس طرح کہ گیا شیعہ مٹی ،لکڑی خرما کے درخت کے پتے اور دوسرے درخت کے پتے پر سجدہ کرسکتے ہیں ، لیکن زمینوں کی فضیلت وامتیاز میں اختلاف ہے جس طرح کہ خداوند عالم فرماتاہے :وفی الارض قطع متجاوراتٌ۔۔۔۔۔۔(٣٠) اور زمین کے متعدد ٹکڑے آپس میں ایک د وسرے سے ملے ہوئے ہیں یہاں سے ہے کہ بعض زمینوں میں زمینداری کی زیادہ قابلیت وصلاحیت ہے اور بعض دوسروں میں یہ صلاحیت بہت کم ہے ، اس بنأ پر ،مساجد کی فضیلت میں بھی ایساہی ہے ، مثلاً مسجد الحرام میں نماز پڑھنا مسجد النبی میں نماز پڑھنے سے زیادہ فضیلت کے حامل ہے اورجامع مسجد میں نماز پڑھنا محلہ اور بازار کی مسجد میں نماز پڑھنے سے زیادہ بہتر ہے ۔ سمھودی نے کتاب '' وفا ء الوفاء (٣١)میں نقل کیاہے کہ مدینہ کی زمین کی مکہ کی زمین سے زیادہ فضیلت ہے ۔رافع ابن خدیجہ کہتاہے : میں گواہی دیتاہوں (میں قسم کھاتا) کہ میں نے رسول خدا(ص) سے سنا:( المدینۃ خیرمن مکۃ )مدینہ مکہ سے بہتر ہے ۔اجماع اس پر ہے کہ اس زمین کی جس میںپیغمبر(ص) (دفن ہیں حتٰی کہ کعبہ سے زیادہ فضیلت ہے یہ اجماع ابوالولید الناجی (یا الباجی ) نے نقل کیاہے قاضی عیاض اور ابوالیمن عساکر نے بھی یہ اجماع نقل کیاہے اور کعبہ پر اس کی فضیلت ہونے کے بارے میں تصریح کی ہے ۔ اسی طرح تاج السبکی نے ابن عقیل سے نقل کیاہے کہ وہ مقدس جگہ ، عرش سے زیادہ فضیلت کے حامل ہے تاج فاکھی کہتاہے : بلکہ یہ زمین آسمان کے حصوں میں سے ایک بہترین حصہ بھی ہے ۔ (٣٢)بے گمان حسین رسول خدا(ص) کا نواسہ اورپیغمبر کی خوشبو کا پھول ہے جس طرح کہ پیغمبر(ص)نے فرمایا : الحسین منی وانا من حسین ، حسین مجھ سے ہے اور میں حسین سے ہوں ۔ اسی طرح فرمایا: احب اللہ من احب حسیناً ؛جو بھی حسین کو د وست رکھے، اس نے خدا کود وست رکھا ہے ۔ پس کا حسین گوشت ، پیغمبر کا گوشت اور حسین کا خون ،پیغمبرکا خون ہے پہلا شخص جس نے کربلا کی مٹی کو چوما اور اس کو اپنے ہاتھوں سے مس کیا اور اس پر گریہ کیا، سید الانبیا ،حضرت محمد مصطفی (ص) تھے حاکم نیشاپوری نے کتاب '' مستدرک علی الصحین '' میں ام مسلمہ سے نقل کیا ہے : ایک رات پیغمبر سوئے ہوئے تھے تو وہ اچانک حیران وپریشان کی حالت میں بیدار ہوئے ،پھر دوبارہ سوئے اوردوبارہ حیرانگی کی حالت میں بیدار ہوئے لیکن اس دفعہ ان کا اضطرات تھوڑا کم تھا اس کے بعد دوبارہ سو ئے جب وہ تیسری دفعہ بیدار ہوئے ، تو سرخ رنگ کی ایک مٹی اس کے ہاتھوں میں تھی ، اوروہ اس کو چوم رہے تھے میں نے پوچھا : اے رسول خدا !یہ مٹی کیاہے؟ انہوںنے فرمایا: اخبرنی جبرئیل ان ھذا یقتل بأرض العراق للحسین ؛جبرئیل نے مجھے خبر دی کہ یہ مٹی حسین کے لئے ہے کہ وہ عراق کی سرزمین پر مارا جائے گا میں نے عرض کیا : اس زمین کی مٹی جس پر حسین شھید کئے جائیں گے ،مجھے دکھاؤ! انہوں نے فرمایا: فھٰذہ تربتھا، یہ اس کی مٹی ہے ۔حاکم نیشاپوری کہتاہے : یہ حدیث بخاری اور مسلم کی شرط کے مطابق صحیح ہے ؛لیکن انہوں نے یہ ر و ایت نہیں نقل کی ہے۔(٣٣) اس بنأپر مٹی اور ز مین پر سجدہ صحیح کرنے پر، مسلمانوں کا اجماع ہے ؛پس اب کوئی بھی اشکال موجود نہیں ہے ۔ لیکن تربت امام حسین کے بارے میں مجھے کہنا چاہئے : اس پر سجدہ کرنا،مٹی کے ایک مٹھی پر سجدہ کرنا ہے کہ اس کی ایک خاص خصوصیت ہے کیونکہ پیغمبر(ص) اس مٹی کی فضیلت کے قائل ہوئے ہیںاور اس کو چوما ہے اس بارے میں ،تم اہلسنت کی کتابوں کی طرف رجوع کرسکتے ہو سید عبد اللہ الغریفی البحرانی نے کتاب '' التشیع '' میں اہلسنت کی کتابوں سے بہت سارے منابع نقل کئے ہیں ۔ (٣٤)شیعہ امامیہ ،جب نماز میں اپنی پیشانی تربت امام حسین پررکھتے ہیں ، تو وہ اس مٹی کے مقابل میں سجدہ نہیں کرتے ہیں بلکہ وہ اس مٹی پر سجدہ کرتے ہیں اور ان سجدے ایک خدا کے لئے مخصوص اورخالص اسی کے لئے ہیں شیعہ سجدہ میں ذکر '' سبحان ربی الاعلیٰ وبحمدہ ؛خداوند عالم منزہ و پاک ہے اور اس کے لئے حمد وشکر مخصوص ہے '' کہتے ہیں ۔شیعہ اثنا عشری علماء کی نظر بھی خداوند عالم کے علاوہ کسی دوسرے کے مقابلے میں سجدہ کرنے کے حرام ہونے پر ہے۔
+ نوشته شده در جمعه بیست و پنجم بهمن ۱۳۹۲ساعت 15:48  توسط سید انعام علی نقوی
|
سخن گفتن گاو حضرت امام محمد تقی علیه السلام فرمود: صبر را بالش کن و نیازمندی را در آغوش بگیر، شهوات را به دور انداز و با هوا مخالفت کن و بدان که در مقابل چشم خدا هستی. پس به حال خود توجه کن که چگونه هستی. و از محمد بن علی تنوخی نقل شده که گفت: من دیدم که حضرت جواد علیه السلام با گاوی سخن گفت، پس گاو سر خود را حرکت داد. من گفتم: این (دلیل بر معجزه ی شما) نیست. ولی امر کنید که او هم با شما صحبت کند. حضرت به آن گاو فرمود: بگو: لا اله الا الله وحده لا شریک له و گاو سخنان حضرت را تکرار کرد. ادامه مطلب
+ نوشته شده در یکشنبه بیستم بهمن ۱۳۹۲ساعت 20:6  توسط سید انعام علی نقوی
|
+ نوشته شده در جمعه ششم دی ۱۳۹۲ساعت 18:4  توسط سید انعام علی نقوی
|
به نقل از ابنا، در مسیر نجف به کربلا و از میان پرچمهای مختلف که توسط زائران پیاده حرم حسینی حمل میشد، پرچم فرانسه توجه همگان را به خود جلب میکرد، به سراغ آن پرچم که رفتند، دیدند زنی مسیحی از فرانسه این پرچم را حمل میکند، وقتی از او درباره رفتن به زیارت امام حسین(ع) پرسیدند، گفت: من در زمان اشغال عراق به صورت داوطلبانه به نیروهای ائتلاف ملحق شدم. در یکی از مراسم اربعین امام حسین(ع) از یکی از زائران که به صورت پیاده به کربلا میرفت پرسیدم: “آیا از اینکه از بصره به کربلا پیاده سفر میکنی خسته نمیشوی؟” گفت: “حاجتی از خدا دارم و میروم تا حاجتم را زیر گنبد حرم امام حسین(ع) از او بخواهم و یقین دارم که خداوند به برکت وجود امام حسین(ع) حاجتم را برآورده خواهد ساخت”. این زن میافزاید: من دچار سرطان سینه شده بودم و پزشکان به من گفتند به محض رسیدن به فرانسه باید تن به عمل برداشتن سینه بدهم، آن روز من نذر کردم اگر از این بیماری شفا یابم با پای پیاده از نجف به کربلا به زیارت امام حسین(ع) بروم. وقتی به فرانسه رفتم، پزشکان دوباره مرا تحت معاینات پزشکی و آزمایشهای جدید قرار دادند اما در کمال ناباوری اثری از بیماری در من ندیدند. اینک که شما مرا میان زائران پیاده میبینید در واقع آمدهام که نذرم را ادا کنم.
+ نوشته شده در جمعه ششم دی ۱۳۹۲ساعت 17:15  توسط سید انعام علی نقوی
|
امام محمد باقر علیهالسلام در بخشی از حدیث زیارت امام حسین علیهالسلام در روز عاشورا از مسافت نزدیک یا دور فرمودند: سپس، براى حسین علیهالسلام گریه و زارى کند و به کسانى که در خانهاش هستند و از آنها تقیه نمیکند دستور دهد که براى او بگریند … و در سوگ حسین علیهالسلام به یکدیگر تسلیت گویند… عرض کردم: چگونه به همدیگر تسلیت بگوییم؟ حضرت فرمود: بگویید: خداوند اجر ما را به سبب مصیبتى که از حسین(ع) به ما رسیده بزرگ گرداند و ما و شما را از کسانى قرار دهد که در کنار ولىّ دم او، امام مهدى از خاندان محمّد علیهمالسلام، به خونخواهى او بر میخیزند. متن حدیث: الإمامُ الباقرُ علیهالسلام فی حدیثِ زِیارَةِ الحُسَینِ علیهالسلام یَومَ عاشوراءَ مِن قُربٍ أو بُعدٍ: ثُمَّ لیَندُبِ الحسینَ علیهالسلام ویَبکیهِ، ویأمُرُ مَن فی دارِهِ مِمَّن لا یَتَّقیهِ بِالبُکاءِ علَیهِ …و لِیُعَزِّ بَعضُهُم بَعضا بِمُصابهِم بِالحُسَینِ علیهالسلام … قُلتُ : فکَیفَ یُعَزّی بَعضُنا بَعضا؟ قالَ: تَقولونَ : أعظَمَاللّهُ اُجورَنا بِمُصابِنا بِالحُسَینِ، وجَعَلَنا و إیّاکُم مِنَ الطّالِبینَ بِثارِه مَعَ وَلِیِّهِ الإمامِ المَهدِیِّ مِن آلِ مُحَمَّدٍ علیهمالسلام . «مصباح المتهجّد: ۷۷۲- منتخب میزان الحکمة ۳۸۲»
+ نوشته شده در جمعه ششم دی ۱۳۹۲ساعت 17:10  توسط سید انعام علی نقوی
|
+ نوشته شده در جمعه ششم دی ۱۳۹۲ساعت 16:34  توسط سید انعام علی نقوی
|
+ نوشته شده در جمعه ششم دی ۱۳۹۲ساعت 16:33  توسط سید انعام علی نقوی
|
+ نوشته شده در جمعه ششم دی ۱۳۹۲ساعت 16:15  توسط سید انعام علی نقوی
|
+ نوشته شده در پنجشنبه پنجم دی ۱۳۹۲ساعت 20:49  توسط سید انعام علی نقوی
|
+ نوشته شده در پنجشنبه پنجم دی ۱۳۹۲ساعت 20:48  توسط سید انعام علی نقوی
|
+ نوشته شده در پنجشنبه پنجم دی ۱۳۹۲ساعت 20:47  توسط سید انعام علی نقوی
|
+ نوشته شده در پنجشنبه پنجم دی ۱۳۹۲ساعت 20:45  توسط سید انعام علی نقوی
|
+ نوشته شده در پنجشنبه پنجم دی ۱۳۹۲ساعت 20:43  توسط سید انعام علی نقوی
|
+ نوشته شده در پنجشنبه پنجم دی ۱۳۹۲ساعت 20:34  توسط سید انعام علی نقوی
|
در نگاه عامه و اهل سنت با تعریفی که در نگاه اهل بیت است متفاوت است. در آن تعریف امامت را در حد حکومت و جانشینی پیامبر و رهبری جامعه ی اسلامی می دانند. اهل سنت تعریف مشهوری دارند که امامت را این طور تعریف می کنند: جانشینی پیامبر ریاستی است در امور دینی و دنیایی مردم و با انتخاب مردم است. یعنی مردم اجتماع می کنند و فردی را جانشین پیامبر می کنند که کار این جانشین رهبری حکومت اسلامی است. در همه ی دنیا اداره جامعه نیاز به یک رئیسی دارد و در حکومت اسلامی هم یک رهبری برای اداره جامعه ی اسلامی لازم است که مردم باید او را انتخاب کنند. این رهبر نیاز به عصمت و علم غیب و علم خاصی ندارد. مثلا رئیس جمهور نباید حتما عصمت و علم غیب داشته باشد . کتاب تمهدید نوشته ی باقِلانی است و چاپ بیروت است. نویسنده ی این کتاب هزار سال پیش زندگی می کرده است. در این کتاب داریم :این رهبر لازم نیست معصوم باشد و علم غیبت داشته باشد و لازم نیست که شجاع ترین مردم باشد. دلیلش این است :کسانی که بعد از پیامبر جانشین بودند گفتند که ما عصمت نداریم و لازم نیست که در علم سرآمد باشیم.( خلیفه دوم بارها می گفت که اگر امیرالمومنان در مسائل علمی به فریاد من نمی رسید،من از بین می رفتم)رهبر اسلامی درعلم و دانش هیچ تفاوتی با مردم ندارد. فقط باید تدبیر حکومتی را بداند. (علامه امینی در کتاب الغدیر در جلد هفتم هم این مطلب را کامل نقل کرده است) این امامی که ما معرفی می کنیم برکنار نمی شود به فساد و ظلم و در صورت فساد و ظلم باید او را موعظه کرد. الان در همه ی خطبه های نمازجمعه ی مدینه و مکه دعا می کنند که خدایا امام ما را حفظ کن. آنها امروز به ملک عبدالله امام می گویند و دیروز به ملک فهد امام می گفتند و فردا به ... تعریف امام در مکتب اهل بیت این است که جانشین پیامبر فقط رهبری یک جامعه ی اسلامی را بعهده ندارد .و مردم او را انتخاب نمی کنند. آنها یک مقام بالاتر برای امام قائل هستند و می گویند که امام یک مرجعیت دینی دارد. پیامبر در آن ۲۳ سال فرصت پیدا نکردند که تمام جزئیات و احکام دینی را بیان کنند .پیامبر در ۱۳ سالی که در مکه بودند در اوج فشارها واذیت ها بودند که کل مسلمانان ۴۰۰ نفر بوده اند و عده ای از آنها به حبشه مهاجرت کرده بودند. در ده سال مکه پیامبر مشغول جنگ بودند که آنها بر پیامبر تحمیل می کردند. شهید مطهری می نویسد: اگر پیامبر در این ۲۳ سال مشکلاتی هم نداشتند و مثل یک معلم هر روز احکام دینی را بیان می کردند، باز هم فرصت گفتن تمام احکام را نداشتنند. با توسعه ی حکومت اسلامی و پیدا شدن مسائل جدید بعد از پیامبر چه باید کرد ؟ در نگاه اهل بیت فقط حکومت در دست امام نیست بلکه مرجعیت دینی دست امام است. اما باید کسی باشد که بتواند به همه ی سوالات مردم پاسخ بدهد. اهل سنت وقتی جواب حکمی را ندارند و در بیان پیامبر هم نبوده است سراغ قیاس می روند. یعنی اگر پیامبر چیزی را گفته حلال است آنرا مسئله را با گفتگوی پیامبر قیاس می کنند. پیامبر فرمود :من بعد از خودم دو چیز گرانبها در میان شما به امانت می گذارم، کتاب خدا و عترتم را .قرآن معصوم است و کلامش حق است. پس اگر قرآن معصوم است، اهل بیت هم معصوم هستند و کلام شان حق است. پس از دید اهل بیت مرجعیت دینی با امام است. امیرالمومینن فرمودند :پیامبر قبل از مرگ شان هزار باب علم به من یاد دادند که از هر باب آن هزار باب باز می شد. ما امیرالمومنان را معصوم می دانیم. یک رئیس جمهور نیازی به معصومیت ندارد اگر فقط بخواهد رهبری حکومت را داشته باشد. ولی نیاز دینی مردم چه می شود ؟پس مرجعیت دینی مردم با امام و جانشین پیامبر است. در قرآن داریم که امروز دین را بر شما کامل کردیم ،نعمت را بر شما تمام کردیم و دین اسلام به شما داده شد و کفار ناامید شدند. چه روزی است که این ویژگی ها را داشته باشد؟ آن روز جز غدیر چه روزی می تواند باشد؟ آیا روزی که پیامبر مکه را فتح کرد یا مهاجرت کرد می تواند این روز باشد؟ خیر. شئونی که ما در زیارت جامعه ی کبیره می خوانیم برای امامی است که عصمت دارد و دارای مرجعیت دینی مردم است. مسائل جدید جامعه ی دینی را باید امامی جواب بدهد که دارای عصمت باشد. امام کسی است که بتواند همه ی مسائل و مشکلات را برای ما بیان کند. وقتی ما به زیارت امام می رویم می گوییم: شما صدای ما را می شنوی، کلام ما را پاسخ می دهد، جایگاه ما را می دانی و از درون ما خبر داری و اعمال ما بر امام عرضه می شود. در کتاب کافی و در کتاب های شیخ صدوق داریم :امام رضا(ع) تازه به مرو آمده بودند، فردی به امام گفت: وقتی ما در مسجد جامعه بودیم، مردم در مورد امامت می گفتند که جانشینی پیامبر در حد یک ریاست است و مردم باید امام را انتخاب بکنند. امام رضا(ع) هفتاد ویژگی برای امام مطرح کردند. حضرت امیر می فرمود که از من بپرسید قبل از اینکه من از میان شما بروم. خلفای دیگر ادعای معصومیت نداشتند زیرا خودشان را حاکم می دانستند ولی خودشان را اعلم از دیگران نمی دانستند. مهمترین شأن امام پاسخگویی به نیازهای علمی است البته حکومت دینی و رهبری دینی هم با امام است .در زمان پیامبر کسی را بعنوان رهبر جامعه انتخاب نمی کردند و نمی گفتند که پیامبر فقط نیازهای علمی ما را پاسخ بدهد. با مقام عصمت پیامبر این حرف ها مطرح نبود. اگر امام معصوم است،اعلم ترین و با تقواترین مردم است و همان شئون پیامبر(به جز وحی) را دارد، پس باید حکومت و مرجعیت دینی مردم را بعهده داشته باشد. آیت الله بروجردی کتاب ها و رساله های فراوانی نوشته اند که این حدیث ثقلین در آن نوشته شده است. همان طور که کسی در مورد قرآن بحثی ندارد در مورد عترت هم نباید بحثی داشته باشد زیرا این قرآن وعترت درحدیث ثقلین در ردیف یکدیگر آورده شده است. در زیارت جامعه ی کبیره بیش از دویست ویژگی برای امام آمده است . امام رضا(ع) در جواب آن فرد فرمود :امامت بالاتر از این است که مردم با عقل خودشان انتخاب کنند.( در قرآن داریم: ابراهیم مقام خلیل الرحمانی و پیامبری را داشته بعد امام مردم شده است.و می گوید که امامت به ظالمین نمی رسد) امامت جانشینی پیامبر و ادامه ی کار پیامبراست. مقام عصمت دارد و علم وافر دارد. و خداوند این علم را به آنها داده است .انبیاء و پیامبران به مکتب نرفته اند .امام رضا (ع) به چند آیه در قرآن اشاره کردند: سوره یونس آیه ۲۵ می فرماید :چه کسی برای امامت می تواند بهتر باشد؟ آیا کسی که می تواند دست دیگران را بگیرد، یا کسی که نیاز به هدایت دیگران دارد؟ حضرت امیر یک بار از کسی سوالی نکرده است. و همه نیازمند علم ایشان بوده اند. سوره بقره آیه ۲۶۹ می فرماید : و من یعطی ا لحکمه ... خدا این حکمت را عطا می کند. سوره بقره آیه ۲۴۹ می فرماید: ان الله الصطفاکم علیکم... خداوند طالوت را انتخاب کرد زیرا او در علم و قدرت برتر بود. منبع:فرهنگ نیوز منبع:سایت شهید آوینی
+ نوشته شده در پنجشنبه پنجم دی ۱۳۹۲ساعت 20:33  توسط سید انعام علی نقوی
|
+ نوشته شده در پنجشنبه پنجم دی ۱۳۹۲ساعت 20:32  توسط سید انعام علی نقوی
|
+ نوشته شده در پنجشنبه پنجم دی ۱۳۹۲ساعت 20:31  توسط سید انعام علی نقوی
|
+ نوشته شده در پنجشنبه پنجم دی ۱۳۹۲ساعت 20:30  توسط سید انعام علی نقوی
|
ابوظہبی (سپورٹس ڈیسک + آن لائن) ابوظہبی میں سری لنکا کیخلاف چوتھے ایک روزہ میچ میں پاکستان نے سری لنکاکو 8 وکٹوں سے شکست دیکر سیریز جیت لی۔ پاکستان نے 226رنزکاہدف 2وکٹوں کے نقصان پر پورا کیا۔ پاکستان کی کامیابی میں محمد حفیظ کے شاندار 113 رنز شامل ہیں۔ صہیب مقصود نے بھی 46 رنزکی شاندار اننگز کھیلی۔ 5 میچوں کی سیریز میں پاکستان کو 3-1 سے واضح برتری حاصل ہوگئی۔ تفصیلات کے مطابق سری لنکا نے اس میچ میں ٹاس جیت کر پہلے کھیلنے کا فیصلہ کیا تھا تاہم سعید اجمل اور عمر گل کی عمدہ بولنگ کی وجہ سے سری لنکا کی ٹیم پاکستان کو ایک بڑا ہدف دینے میں ناکام رہی اور پوری ٹیم 49 ویں اوور میں 225 رنز بنا کر آؤٹ ہوگئی۔ جواب میں پاکستان کو اننگز کے آغاز میں اوپنر شرجیل خان کی وکٹ کی صورت میں پہلا نقصان اٹھانا پڑا جنہیں اینجلو میتھیوز نے 13 کے انفرادی سکور پر بولڈ کیا تاہم اسکے بعد احمد شہزاد اور محمد حفیظ نے ایک مرتبہ پھر عمدہ بلے بازی کا مظاہرہ کیا اور 84 رنز کی شراکت قائم کی جس کا خاتمہ لکمل نے احمد شہزاد کو کیچ کروا کے کیا۔ محمد حفیظ نے عمدہ بلے بازی کرتے ہوئے 113 ناٹ آئوٹ رنز بنائے۔ اس سے قبل سری لنکا کی جانب سے کشال پریرا اور تلکارتنے دلشان نے جارحانہ انداز میں اننگز شروع کی اور ابتدائی دو اوور میں 8 کی اوسط سے رنز بنائے تاہم عمر گل نے اپنے پہلے ہی اوور میں پریرا کو کیچ کروا کے پاکستان کو پہلی کامیابی دلوائی۔ عمرگل نے جلد ہی دلشان اور چندی مل کو بھی واپس پویلین بھیج کر سری لنکا کو مشکل میں ڈال دیا۔ اس موقع پر اپنا پہلا میچ کھیلنے والے پرینجن اور تجربہ کار کمارا سنگاکارا نے ٹیم کو سہارا دیا اور 89 رنز کی اہم شراکت قائم کی۔ اس شراکت کا خاتمہ اننگز کے 29 ویں اوور میں سنگاکارا کے رن آؤٹ ہونے پر ہوا۔ آؤٹ ہونے سے قبل سنگاکارا نے ایک روزہ میچوں میں83 ویں نصف سنچری مکمل کی۔ سنگاکارا کے جانے کے بعد پرینجن نے کپتان میتھیوز کے ساتھ ملکر 40 رنز کی ایک اور اہم شراکت قائم کی لیکن انکی ناتجربہ کاری آڑے آئی اور وہ جنید خان کی گیند پر 74 رنز بنا کر بولڈ ہوگئے۔ اس موقع پر پاکستانی آف سپنر سعید اجمل نے سری لنکن بلے بازوں کو اپنی سپن کے جال میں جکڑ لیا اور پہلے کولاسیکرا اور پھر لگاتار دو گیندوں پر میتھیوز اور سنانائیکے کو آؤٹ کرکے سری لنکن ٹیم کی بڑا سکور کرنے کی امیدوں پر پانی پھیر دیا۔ سعید اجمل نے 39 رنز کے عوض 4 وکٹیں حاصل کیں۔ اجمل نے ہی ملنگا کو آؤٹ کر کے 225 کے مجموعی سکور پر سری لنکن اننگز کا خاتمہ کیا۔ پاکستان کی جانب سے سعید اجمل نے 4، عمر گل نے 3 جبکہ جنید خان نے 2 وکٹیں حاصل کیں۔ اس میچ کیلئے پاکستانی ٹیم میں کوئی تبدیلی نہیں کی گئی جبکہ سری لنکا نے اپنی ٹیم میں تین تبدیلیاں کی ہیں اور دو نئے کھلاڑیوں پرینجن اور ویتھنگے کو موقع دیا۔ اس سے قبل سیریز کے پہلے دو میچوں میں کانٹے کا مقابلہ دیکھنے کو ملا تھا اور شارجہ میں پہلا میچ پاکستان نے 11 رنز سے جبکہ دبئی میں دوسرا میچ سری لنکا نے دو وکٹوں سے جیتا تھا تاہم شارجہ میں تیسرے میچ میں پاکستان نے مہمان ٹیم کو 113 رنز کے واضح فرق سے شکست دی تھی۔ محمد حفیظ کو میچ کا بہترین کھلاڑی قراردیا گیا۔ ملالہ یوسف زئی جو کہ شاہی مہمان تھی نے بھی سٹیڈیم میں میچ دیکھا اور کھلاڑیوں کی حوصلہ افزائی کی۔ وزیراعلی پنجاب میاں محمد شہباز شریف نے قومی ٹیم کو سری لنکا کیخلاف سیریز جیتنے پر مبارکباد دی ہے۔
+ نوشته شده در پنجشنبه پنجم دی ۱۳۹۲ساعت 13:45  توسط سید انعام علی نقوی
|
+ نوشته شده در پنجشنبه پنجم دی ۱۳۹۲ساعت 13:43  توسط سید انعام علی نقوی
|
در کتب فقهی و حدیثی شیعه و سنّی برای ماه مبارک رمضان نمازهای مستحبی بسیاری نقل شده که برخی از آنها به هزار رکعت می رسد. صلاة تراویح نیز از جمله نمازهایی است که اهل سنّت آن را مستحب دانسته و در هر شب از ماه مبارک رمضان نزدیک به بیست رکعت، آن را به جماعت اقامه می نمایند. گرچه نماز عبادتِ برتر است و نمازهای مستحبی و مندوب در شرع مقدس محدوده خاصی ندارد، اما آیا به جز نمازهای فریضه یا مواردی که مشروعیت آن به جماعت، با دلیل قطعی از پیامبر و ائمه معصوم(علیهم السلام) به ثبوت رسیده باشد، میتوان نمازهای مستحبی مثلاً نوافل را به جماعت خواند؟! در این مسأله میان شیعه و سنی اختلاف هست و این اختلاف نظریه، در نماز تراویح نیز مطرح است. از چندی پیش در صدد بودم که در این باره تتبّعی کرده، مطلبی را بنویسم و بدین منظور یادداشتهایی را از برخی منابع روایی و فقهی تهیه کردم، امّا در خلال بررسی، به نوشتاری برخوردم که فاضلی از افاضل حوزه مقدّس قم، با تتبّع فراوان، موضوع تراویح را به بحث گذارده و با نظم و نسق کامل و زیبا، آماده چاپ کرده بود و این ما را از تحقیق و تفحّص مجدّد بینیاز می ساخت; از این رو بهتر آن دیدم که وقت بیشتری را مصروف این کار نکنم و همان متن را ترجمه کرده، در فصلنامه «میقات حجّ» تقدیم خوانندگان گرامی نمایم. گفتنی است از آنجا که تحقیق و نگارش یاد شده، به جز فهرستهای کتاب، به حدود نود صفحه میرسید و این فراتر از ظرفیت یک مقاله در فصلنامه بود، بر آن شدم که آن را تلخیص کرده در قالب این مقاله، که برگرفته از متن عربی است، به صورت گزیده، با اندک تصرف، به خوانندگان گرامی تقدیم کنم. جا دارد از مساعی نگارنده محترم که زحمت پژوهش و نگارش را متحمّل شده اند سپاسگزاری شود. واژه «تراویح» «تراویح» جمع «ترویحه» و معنای اصلی آن، نشستن است. بعدها آن را به نشستن به منظور استراحت پس از چهار رکعت نماز (مستحبی) در ماه رمضان، اطلاق کرده اند و از آن پس به هر چهار رکعت نماز یاد شده، «تراویح» گفته اند. البته مجموعه این نماز را هم که به بیست رکعت میرسد، تراویح میگویند. ۱ کحلانی می نویسد: نامگذاری این نماز به تراویح، شاید مستند به روایتی باشد که بیهقی از عایشه نقل کرده که گفت: «پیامبر خدا(صلی الله علیه وآله) پس از هر چهار رکعت به استراحت میپرداخت.» اگر این حدیث به ثبوت برسد، مستند اصلی است برای نشستن امام در نماز تراویح. ۲ اشکال در روایت همان است که بیهقی بدان اشاره کرده که تنها راوی حدیث «مغیرةبن دیاب» است که مورد تأیید نیست. ۳ نمازهای ماه رمضان در احادیث شیعه و سنی در صحاح و سنن و مدارک و جوامع روایی، روایات بسیاری از پیامبر(صلی الله علیه و آله) و ائمه(علیهم السلام)درباره نافلههای ماه رمضان، اصل مشروعیت، تعداد رکعات و چگونگی آن رسیده است که از مجموع آنها، اصل مشروعیت آن به اجماع و اتّفاق نظریه استفاده می شود. مسأله مورد اختلاف این است که آیا این نافله ها را میتوان به جماعت خواند یا باید فرادی خوانده شود؟ در این تحقیق، به تفصیل در باره این موضوع بحث خواهد شد. در اینجا، به دلیل رعایت اختصار، از کتب اهل سنّت به آنچه بخاری آورده و از کتب امامیه به آنچه شیخ طوسی در تهذیب نقل کرده است بسنده می کنیم. و در پانوشت ها به دیگر مصادر روایی که احادیث مربوط را ثبت کرده است، اشاره می کنیم: الف ـ روایات اهل سنّت ۱ ـ یحی بن بکیر، از عقیل، از ابن شهاب روایت کرده که امّسلمه مرا خبر داد که ابوهریره گفت: از رسول خدا(صلی الله علیه و آله) شنیدم که در باره ماه رمضان فرمود: «کسی که از روی ایمان و اخلاص به نماز بایستد ، خداوند گناهان گذشته او را بیامرزد»; «مَنْ قَامَهُ إِیمَاناً وَ احْتِسَاباً غُفِرَ لَهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِهِ». ۴ ۲ ـ به طریق دیگر از ابوهریره نقل شده که پیامبر(صلی الله علیه وآله) فرمود: «مَنْ قَامَ رَمَضان إِیمَاناً وَ احْتِسَاباً غُفِرَ لَهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِهِ». ابن شهاب گوید: پیامبر خدا رحلت کردند و تا زمان ابوبکر و اوایل خلافت عمر امر به این منوال بود. ۵ شوکانی گوید: از نووی نقل شده که قیام رمضان، با نماز تراویح تحقق می پذیرد ولی منحصر به تراویح نیست. و سخن کرمانی را که گفته است قیام رمضان جز به تراویح محقّق نمیشود، دور از واقعیت دانسته است. ۶ ۳ ـ بنا به نقل بخاری، از عایشه روایت شده که گفت: «إِنَّ رَسُول الله صَلّی وَذلِکَ فی رَمَضان». ۷ ۴ ـ یحیی بن بکیر، از عقیل، از ابن شهاب، از عروه روایت کرده که عایشه بر من خبر داد که رسول خدا در نیمه شبی به مسجد رفتند و گروهی با نماز آن حضرت نماز خواندند و این خبر منتشر شد و در پی آن جمعیت بیشتری آمدند و با پیامبر نماز گزاردند، صبح شد و خبر نماز پیغمبر زبان به زبان گشت و در شب سوّم نیز با نماز آن حضرت نماز خواندند و چون شب چهارم فرارسید، مسجد گنجایش جماعت را نداشت تا اینکه مردم برای ادای فریضه صبح اجتماع کردند و پیامبر پس از نماز صبح شهادتین گفته، سپس فرمودند: از تنگی مکان بیم نداشتم، لیکن ترسیدم که این نماز بر شما واجب شود ; (خَشیتُ أَنْ تَفْرِضَ عَلَیکُمْ…) و از انجام آن ناتوان شوید. پیامبر رحلت نمودند و امر بدین منوال بود. ۸ شوکانی گوید: نوری گفته است: از این روایت چنین استفاده میشود که نافله را میتوان به جماعت خواند، امّا به نظر من باید نافله را فرادی خواند، به جز نوافل مخصوص; مانند عید، کسوف، استسقا و تراویح، به نظر اکثر فقها». ۹ این نظریه از چند جهت مردود است: اوّلاً: روایت پیشین دلیل بر این نیست که آن نماز که پیامبر گزاردند، تراویح بوده و در ماه رمضان اقامه شده است، تا بتوان بر مشروعیت تراویح استدلال کرد. ثانیاً: فقهای اهل سنّت در این که مضمون روایت مبیّن جماعت در نافله باشد، تأمّل دارند و جز در مواردی خاص; مانند عید و استستقا و… فرادی خواندن را ترجیح داده اند. چنانکه از قول شوکانی خواهد آمد. ثالثاً: سند روایت جای تأمّل دارد; زیرا یحیی بن بکیر را که همان یحیی بن عبدالله ابن بکیر است، برخی علما مانند نسائی و ابن حاتم ضعیف شمرده اند. نسائی گوید: «ضعیف است و در مورد دیگر گوید ثقه نیست.» ابی حاتم نیز گوید: حدیث او ثبت میشود امّا به آن استدلال نمیتوان کرد. ۱۰ ۵ ـ اسماعیل گوید، مالک برایم نقل کرد از سعید مقبری، از ابی سلمه پسر عبدالرحمان که از عایشه پرسید: نماز پیامبر در ماه رمضان چگونه بود؟ پاسخ داد: در رمضان و نه غیر آن، بر یازده رکعت می افزود. چهار رکعت میخواند که از زیبایی و طولانی بودنش مپرس، سپس چهار رکعت دیگر میخواند که از زیبایی و طولانی بودنش مپرس. آن گاه سه رکعت دیگر میخواند. پرسیدم: یا رسول الله آیا پیش از نماز وتر به خواب میروید؟ پاسخ میدادند ای عایشه، دیدگان من به خواب میروند امّا قلب من بیدار است. ۱۱ تفسیر «خَشِیتُ أَنْ تَفْرِضَ» نکته قابل ذکر در روایت فوق، جمله «می ترسم بر شما واجب شود» است; زیرا چگونه ممکن است مواظبت به یک عملِ مستحب، سبب وجوب آن شود؟! و به گفته علاّمه مجلسی(رحمة الله علیه): مواظبت بر عمل خیر و اجتماع بر یک فعل مندوب، هرگز سبب وجوب آن نمی شود; چرا که خدای تعالی از وجود مصالح و مفاسد افعال غافل نیست تا اجتماع مردم آن را کشف کند!… اگر پیامبر از واجب شدن نماز نافله در شب، با عمل مردم، بیم داشت چرا امر کرد در خانههای خود بخوانند؟ و چرا آنها را از انجام نوافل به دلیل بیم از واجب شدن آن نهی نکرد؟! مناسب با تعلیل مذکور در روایت فوق این بود که بفرماید: «می ترسم جماعت خواندن نافله بر شما واجب شود» نه اینکه «نافله شب واجب گردد»، همانگونه که در برخی روایاتشان آمده است. در حالی که آنها معتقدند در برخی نوافل مانند نماز عید، کسوف، استسقا و نماز میّت، جماعت خواندن مستحب است و از جماعت خواندن آنها نهی نرسیده است. بنابراین، اگر روایت مذکور صحیح باشد باید بر این مطلب حمل کرد که چیزی را که خداوند امر نفرموده، نباید در آن مرتکب تکلّف شد و مثلا نماز شب را نباید واجب شمرد; چرا که موجب بدعت در دین خواهد بود. پس این روایت به وضوح دلالت دارد که عمل آنها (جماعت خواندن نافله) ناپسند است و بسا موجب عقاب گردد و حال که چنین است پس از اینکه رابطه وحی قطع گردید ارتکاب آن جایز نخواهد بود. ۱۲ ب: روایات امامیّه ۱ ـ شیخ طوسی به اسناد خود از مسعدة بن صدقه از حضرت صادق(علیه السلام) روایت کرده که فرمود: «روش پیغمبر در ماه رمضان این بود که بر نمازهای نافله پیشین می افزود و از اوّل ماه تا بیستم، بیست رکعت بجای می آورد، هشت رکعت پس از مغرب، دوازده رکعت پس از عشا و در دهه آخر هر شب سی رکعت می خواند. دوازده رکعت پس از مغرب، هجده رکعت پس از عشا و به دعا و تجهّد اهتمام بلیغ می فرمود و در شب بیست و یکم صد رکعت و در شب بیست و سوّم صد رکعت میخواندند و به شب زندهداری می پرداختند» ۱۳ ۲ ـ ونیز شیخ طوسی به اسناد خود از مفضل، از امام صادق(علیه السلام) نقل کرده که فرمود: «یُصَلَّی فِی شَهْرِ رَمَضَانَ زِیَادَةُ أَلْفِ رَکْعَةٍ» ۱۴ «در ماه رمضان بیش از هزار رکعت نماز خوانده می شود.» مفضل میگوید: چه کسی قادر به انجام این نمازهاست؟ امام می فرماید: چنین نیست که تو پنداری. آیا در ماه رمضان بیش از هزار رکعت خوانده نمی شود؟ بدین ترتیب: در هر شب بیست رکعت، در شب نوزدهم صد رکعت، در شب بیست و یکم صد رکعت و در شب بیست و سوم صد رکعت و در هشت شب باقی مانده دهه آخر، سی رکعت، که این نهصد و بیست رکعت می شود….» ۱۵ روایات دیگری نیز با همین مضامین از ائمّه معصوم (علیهم السلام) رسیده و بیانگر آن است که در هر شب از ماه مبارک رمضان تا بیست شب بیست رکعت خوانده می شود و در هر شب از دهه آخر سی رکعت به تفصیلی که گذشت. آراء فقها در نافله ماه رمضان کسی که در کتب فقهی ما امعان نظر کند و ابواب نمازهای مستحب را بررسی نماید، به بابی میرسد با عنوان «نافلههای رمضان» که از اثبات مشروعیت و دلائل آن سخن میگوید و چنین به دست می آید که از امور مسلّم و غیرقابل انکار، که مورد اجماع امامیّه است، مشروعیت و جواز نافله این ماه است; همانگونه که اهل سنّت نیز بر مشروعیّت و جواز آن اتّفاق نظریه دارند. و اگر کسی جز این را به امامیّه نسبت دهد، نشان بی اطلاعی او از مبانی امامیه و آراء و کتب و دلائل آنها است. ۱۶ در اینجا به نقل گفتار علاّمه عاملی، بسنده می کنیم; سیّد عاملی گوید: مشهور در میان اصحاب ما (فقهای امامیّه) استحباب نافله ماه رمضان است; همانگونه که در کتابهای مختَلَف، مقتصر، غایة المرام، الروض، مجمع البرهان، کفایة ومفاتیح و جز اینها آمده است. بلکه میتوان گفت این مسأله اجماعی است; همانگونه که در فوائدالشرایع، مجمع البرهان، الریاض آمده و کسی منکر آن نیست. صدوق نیز موافق جواز آن می باشد. بنابراین، مسأله مورد اتّفاق عموم فقها است; چنانکه در «مصابیح الظلام» آمده و عقیده اکثریت فقها است و همچنین در معتبر ذکر شده و در روایات نیز مشهور است، بدانگونه که در شرایع، نافع، ذکری و روضه آمده است. و در مختلف است که روایات بسیاری در این خصوص وجود دارد. و در البیان است که نافله ماه رمضان مشروعیت دارد، بنا به اشهر و کسی که آن را نفی کند با روایات نزدیک به متواتر و عمل اصحاب مخالفت کرده است. در ذکری آمده: فتاوی و اخبار فراوان دال بر مشروعیّت آن میباشد پس به قول نادر مخالف اعتنا نباید کرد. در معتبر آمده: عمل مسلمانان ـعموماًـ دال بر استحباب نوافل است. در منتهی آمده است: اکثر اهل علم به استحباب افزودن نافله ماه رمضان بر دیگر ماهها قائلاند و نیز گوید: به جز معدودی بر این امر اجماع دارند. در سرائر می خوانیم: اختلافی نیست که هزار رکعت مستحب است و جز ابو جعفر ابن بابویه، با این قول مخالفی نیست و مخالفت وی مضر به اجماع علمای متقدم و متأخر وی نمی باشد. ۱۷ نگارنده گوید: کلام صدوق در کتاب «الفقیه» دالّ بر نفی مشروعیت نافله ماه رمضان نیست بلکه ظاهر گفته او نفی تأکید بر استحباب است، چه او تصریح می کند: باکی نیست که به آنچه در اخبار وارد شده عمل شود. ۱۸ افزون بر این، در امالی صدوق آمده است: کسی که بخواهد بر نمازهای نافله در هر شب نیفزاید، هر شب بیست رکعت بخواند، هشت رکعت بین مغرب و عشا دوازده رکعت پس از عشا تا بیست شب از ماه رمضان و سپس در هر شب سی رکعت بجامی آورد. ۱۹ تعداد رکعتهای نافلة رمضان اهل سنّت در عدد این نافله ها اختلاف شدید دارند. این اختلاف بدان جهت است که نصّ صریح از پیامبر گرامی در این خصوص موجود نیست. مشهور نزد جمهور بیست رکعت است. برخی دیگر سی و شش رکعت گفته اند و برخی دیگر بیست و سه رکعت و گروهی شانزده رکعت، گروه دیگر سیزده رکعت. بعضی بیست و چهار و بعضی سی و چهار و بالأخره بعضی چهل و یک رکعت برشمرده اند. و امّا مشهور نزد ما (امامیّه)، به رغم اختلاف روایات، بیست رکعت در شب است تا شب بیستم رمضان، سپس سی رکعت در دهه آخر به علاوه صد رکعت در هر یک از لیالی قدر; نوزدهم، بیست و یکم و بیست و سوم که بدین ترتیب جمعاً هزار رکعت می شود. خلاصه سخنان فقهای عامّه ۱ ـ ابن قدامه می گوید: نظر ابو عبدالله ـ رحمه الله ـ در این خصوص بیست رکعت است که همین قول را نوری و ابوحنیفه و شافعی برگزیده اند. و مالک سی و شش رکعت گفته و پنداشته که از دیر زمان چنین معمول بوده است. وی به عمل اهل مدینه استناد کرده است. ۲۰ نگارنده گوید: دلیل آنها بر بیست رکعت، عمل ابیّ بن کعب است که عمر مردم را به نماز خواندن با وی ترغیب کرد. و از اینجا معلوم می شود که در این خصوص نصّ صریحی از پیامبر در مورد تعداد رکعات نرسیده است. بلکه ظاهر برخی روایات نیفزودن نافلههای رمضان بر دیگر ماههاست; یعنی یازده رکعت نافله شب. آنها همچنین برای اثبات بیست رکعت به آنچه به علی(علیه السلام) نسبت داده شده که آن حضرت مردی را به اقامه بیست رکعت در رمضان نصب فرمود، استدلال کرده اند. ۲۱ ۲ ـ محمّد بن نصر مروزی، مدعای ابن قدامه را نقد کرده که صحابه به بیست رکعت اجماع نموده اند. او گوید: روایات بسیاری در حدّ تواتر از پیامبر خدا رسیده که در رمضان بر یازده رکعت اضافه نمی کردند. پس صحابه چگونه بر خلاف سیره رسول الله اجماع نموده اند؟ پس بهتر آن است که فعل پیامبر ملاک عمل قرار گیرد. ۲۲ ۳ ـ قسطلانی گوید: معروف، که اکثریت عمل می کنند، بیست رکعت است با ده سلام و پنج ترویحه (استراحت). بنابراین، هر ترویحه چهار رکعت است با دو سلام به جز وتر که سه رکعت میباشد. و سخن عایشه را که گوید پیامبر(صلی الله علیه و آله) در رمضان و دیگر ماهها بر یازده رکعت نمی افزود، اصحاب حمل به وتر نموده اند… ۴ ـ سرخسی گوید: به جز وتر، به نظر ما بیست رکعت است و مالک گوید: سنّت سیوشش رکعت می باشد. ۲۳ ۵ ـ العینی نیز به اختلاف شدید اقوال در مسأله اشاره کرده است (که به دلیل اختصار، از نقـل آن خـودداری مـی شـود). ۲۴ ۶ ـ موصلی حنفی گوید: شایسته است در هر شب از ماه رمضان، پس از عشا، امام جماعت پنج ترویحه برای مردم اقامه کند. هر ترویحه چهار رکعت با دو سلام، و میان هر ترویحه مقداری برای استراحت بنشیند و پس از ترویحه پنجم نماز وتر را به جای آورد. ابیّ بن کعب چنین کرد و این روش مردم حرمین (مکّه و مدینه) بوده است. ۲۵ ۷ ـ بغوی گوید: از جمله سنّتها نماز تراویح در ماه رمضان است که عدد آن بیست رکعت است با ده سلام. ۲۶ ۸ ـ ماوردی نیز بیست رکعت را با پنج ترویحه برگزیده است. ۲۷ ۹ ـ الجزیری نیز بیست رکعت را برگزیده به جز نماز وتر. ۲۸ از مجموع این سخنان استفاده می شود که قول به بیست رکعت در نزد اهل سنّت اجماعی است; چنانکه ابن قدامه و دیگران ادعا کرده اند و رأی جمهور (اکثریت) است چنانکه عسقلانی مدعی شد. و همان است رأی ابوعبدالله، نوری، ابوحنیفه و شافعی و حنبلیها که ترمذی از اکثر اهل علم نقل کرده و همین منقول است از علی(علیه السلام) و عمر و سایر صحابه و تابعین; مانند اعمش و ابن ابیملیکه و حارث همدانی و اهل کوفه و… آرای فقهای امامیّه مشهور نزد امامیه هزار رکعت در ماه رمضان است که در هر شب بیست رکعت تا شب بیستم و سی رکعت در شبهای دهه آخر خوانده میشود، با تفصیلی که در کتب فقهی آمده است. در اینجا به نقل گفتار سیّد مرتضی، شیخ طوسی، حلبی، حلّی، نراقی، عاملی و طباطبایی بسنده می کنیم: ۱ ـ سیّد مرتضی گوید: «عقیده امامیّه در ترتیب نوافل ماه رمضان این است که هر شب بیست رکعت بخواند، هشت رکعت پس از نماز مغرب، دوازده رکعت پس از نماز عشا و چون شب نوزدهم رسد صد رکعت و در شب بیستم همان بیست رکعت و شب بیستویکم صد رکعت و در شب بیست و دوم سی رکعت، هشت رکعت آن را پس از مغرب و بقیه را پس از عشا. ۲۹ ۲ ـ شیخ طوسی گوید: طول ماه رمضان هزار رکعت، افزون بر نافلههای سایر ماهها بخواند. در بیست شب اوّل، هر شب بیست رکعت، هشت رکعت میان مغرب و عشا و دوازده رکعت پس از عشا و در دهه آخر هر شب سی رکعت و در شبهای نوزدهم و بیست و یکم و بیست و سوّم هر شب صد رکعت. ۳۰ ۳ ـ ابوالصلاح حلبی نیز به همان ترتیب فرموده است. ۳۱ ۴ ـ ابوالحسن حلبی، گفته است: علاوه بر نوافل یومیه، در ماه رمضان هزار رکعت خوانده شود; به این ترتیب که از شب اوّل تا شب پانزدهم بیست رکعت در هر شب و پس از آن بر بیست رکعت بیفزاید. ۳۲ ۵ ـ علاّمه حلّی نیز هزار رکعت در ماه، هر شب بیست رکعت تا شب بیستم و از آن پس سی رکعت را فرموده است. ۳۳ ۶ ـ فاضل نراقی، هزار رکعت را اجماعی دانسته و در ترتیب آن دو صورت را مطرح نموده است: الف: در هر شب بیست رکعت، هشت رکعت پس از مغرب و دوازده رکعت پس از عشا ـ یا به عکس ـ و در دهه آخر هر شب ده رکعت بیفزاید و در شبهای قدر صد رکعت بیفزاید. ب: همان ترتیب، مگر آنکه در شبهای قدر به صد رکعت اکتفا کند. ۳۴ ۷ ـ سیّد عاملی گوید: در هر شب بیست رکعت و این اجماعی است، همانگونه که در انتصار و خلاف و کشف اللثام و منتهی آمده است. ۳۵ ۸ ـ سیّد طباطبایی، با اشاره به اختلاف روایات، اجماع فقها را بر استحباب هزار رکعت، افزون بر نوافل دیگر آورده است. وی اشاره به قول صدوق نموده که گفته است: در رمضان زاید بر نوافلِ دیگر ماهها نافلهای نیست، آن را قول شاذّ دانسته ۳۶ و کیفیت انجام آن را به ترتیب سابق ذکر کرده است. ۳۷ همانگونه که پیشتر گفته شد، کلام صدوق در فقیه دالّ بر عدم مشروعیّت نیست بلکه تأکید آن بر استحباب را نفی میکند و به طور صریح آورده است: عمل به آنچه در روایات وارد شده. ۳۸ اقوال مخالف در مسأله تراویح در برابر آنچه جمهور فقهای عامّه به سنّت بودن بیست رکعت تراویح قائل اند، برخی آن را انکار کرده اند: ۱ ـ کحلانی مؤلّف «سبل السلام» آن را مورد انکار قرار داده، می گوید: روایت صحیحی درباره آن نرسیده و تنها یازده رکعت در روایت صحیح آمده است و آنچه عمل میشود (بیست رکعت) بدعت می باشد، شوکانی نیز در نیل الأوطار راه کحلانی را پیموده است. کحلانی در عینحال جماعت خواندن نافله را انکار نکرده وبه عمل عمر استناد کرده است که چون دید مردم متفرّق به نماز ایستاده اند، آنها را به جماعت فراخواند. و سپس به روایتی که عامّه از پیامبر(صلی الله علیه وآله) نقل می کنند که «بر شما باد به سنّت من و سنّت خلفای راشدین بعد از من» اشاره کرده و می گوید: مقصود از سنّت خلفا راه و روش پیامبر در برابر دشمنان اسلام و تقویت شعائر دین و امثال آن است. و می افزاید این حدیث هر خلیفه راشدی را شامل است و به شیخین (ابوبکر و عمر) اختصاص ندارد و این از قواعد شریعت است که خلیفه راشد حقّ ندارد طریق های را بر خلاف سیره پیامبر(صلی الله علیه و آله) بنیانگذاری کند. حتّی عمر که خود مؤسس جماعت نافله در شبهای رمضان بود، آن را بدعت نامید و نگفت سنّت است. افزون بر این، صحابه در موارد مختلفی با شیخین مخالفت نموده اند و این نشانه آن است که آنها حدیث مذکور را دالّ بر سنّت بودن تراویح ندانسته اند. ۳۹ ۲ ـ شوکانی بر این باور است که: از روایات این باب مشروعیّت نافله در رمضان به جماعت و یا فرادی استفاده می شود، بنابراین منحصر نمودن آن به تراویح و عدد معین و با قرائت بخصوص از سنّت دلیلی ندارد. ۴۰ ۳ ـ علاّمه مجلسی گوید: از روایات اهل سنّت بر میآید که پیامبر بیست رکعت به عنوان تراویح اقامه نکردند بلکه سیزده رکعت بجا میآوردند و روایات آنها نیز هیچگونه دلالتی بر استحباب بیست رکعت ندارد تا چه رسد به جماعت خواندن آن، هر چند بهترین عبادت است و کم یا زیاد آن مانعی ندارد امّا قول به استحباب عدد خاصّ و در وقت مخصوص و به شیوهای خاص، بدعت و گمراهی است در حالیکه سنّتی که آنها (عامّه) روایت می کنند به صورت مؤکّد است و با عنوان شعائر دین تراویح را بپا می دارند. ۴۱ نماز تراویح با جماعت، بدعتی از خلیفه دوم ظاهر پارهای نصوص این است که نخستین کسی که جماعت در نافله رمضان را سنّت کرد، عمربن خطاب بود و در زمان پیغمبر(صلی الله علیه و آله) و دوره خلافت ابوبکر چنین چیزی وجود نداشت. امّا عمر با استحسان به این امر رأی داد ومردم را بدان ترغیب کرد و خود معترف بود که این بدعت است امّا می گفت بدعت خوبی است! و خود به آن ملتزم نبود و در خانه فرادی می خواند. به این مطلب قسطلانی و قلقشندی و ابن قدامه و دیگران تصریح کرده اند که سخنانشان را خواهیم دید. روایت بخاری ابن شهاب از عروة بن زبیر، از عبدالرحمان بن عبدالقاری نقل کرده که گفت: شبی از شبهای رمضان با عمربن خطاب به مسجد رفتیم، مردم متفرق بودند و هرکس برای خود نماز می خواند و بعضاً مردی با اقوام خود به نماز مشغول بود. عمر چون این بدید گفت: به عقیده من اگر اینها را با یک امام گرد آوریم بهتر است. و در پی این تصمیم ابیّبن کعب را به امامت گماشت. شب دیگر به اتفاق به مسجد رفتیم و مردم به جماعت نماز می خواندند، عمر گفت: «نعم البدعة هذه» این بدعت خوبی است! البته نمازی که پس از خوابیدن بخوانند; یعنی آخر شب از اینکه اوّل شب اقامه شود بهتـر خـواهـد بـود.» ۴۲ علمای عامّه چه می گویند ۱ ـ قسطلانی می گوید: این نماز را عمر بدعت نامید; زیرا پیامبر (صلی الله علیه و آله) دستور نداده بود که به جماعت بخوانند و همچنین در عهد ابوبکر، در اوّل شب نبود و همه شب اقامه نمی شد و عدد رکعات آن این مقدار نبوده است. ۴۳ ۲ ـ ابن قدامه گفته است: تراویح را به عمر نسبت دادهاند; زیرا مردم را مأمور ساخت با ابیّبن کعب به جماعت بخوانند و او چنین کرد. ۴۴ ۳ ـ العینی گوید: عمر آن را بدعت نامید; چرا که رسول خدا(صلی الله علیه وآله) آن را سنّت نکرد و در زمان ابوبکر نیز بدان عمل نمیشد. او میافزاید: بدعت دو گونه است; اگر زیر عنوان عمل پسندیده در شریعت باشد بدعت نیکو است واگر ناپسند باشد بدعت ناپسند است. ۴۵ نگارنده گوید: خواهیم گفت که بدعت یک نوع بیش نیست و آن هم ضلالت است وحرام. ۴ ـ قلقشندی گوید: یکی از ابتکارات عمر این بود که نماز تراویح را برای نخستین بار در ماه رمضان سنّت کرد و مردم را به اقامه آن با امام واحد فراخواند و این در سال چهاردهم هجرت بود. ۴۶ الباصی، سیوطی، سکتواری و دیگران نیز گفته اند: اوّلین کسی که تراویح را سنّت نمود عمربن خطاب بود و نیز تصریح کرده اند که اقامه نوافل به جماعت در ماه رمضان از بدعت های عمر است. ۴۷ ابن سعد و طبری و ابن اثیر گفته اند: این موضوع در سال چهاردهم بود و در مدینه برای مردم و امام قرار داد یکی برای مردان و دیگری برای زنان. ۴۸ الباصی، ابن التین، ابن عبدالبرّ، کحلانی و زرقانی نیز همین مطلب را گفته اند و کحلانی درباره این سخن عمر که گفت: این بدعت خوبی است، میگوید: بدعت هیچ گاه پسندیده نیست بلکه همواره گمراهی و ضلالت است. ۴۹ اینها بخشی است از گفتار فقهای فریقین در مسأله تراویح و همین هاست که موجب شده است در مشروعیت آن به بحث بپردازند. حکم جماعت در نافله رمضان همانگونه که ملاحظه کردیم، در دوران پیامبر(صلی الله علیه و آله) نوافل رمضان به جماعت تشریع نشده و خلیفه دوم آن را اختراع کرده است و همین امر منشأ اختلاف فقهای اسلام شده است. امامیّه مشروعیّت آن را به استناد دلائل محکم رد کرده اند و متأسفانه برخی از عامّه موضع شیعه را نفهمیده و تصوّر کرده اند اصل مشروعیّت نافله مورد انکار آنها است، در حالی که چنین نیست. آنچه مردود است جماعت خواندن نافله است نه اصل نافله; چرا که به اعتراف خلیفه دوّم بدعت است. برخی از عامّه نیز نظری موافق و نزدیک به امامیّه دارند; مانند شافعی که جماعت خواندن نافله را مکروه دانسته و برخی دیگر گفته اند بهتر است فرادی و در خانه خوانده شود. بنابراین مسأله مورد اتّفاق علمای عامّه نیست هر چند اکثریت به مشروعیّت جماعت قائل شده اند. رای فقهای عامّه ۱ ـ عبدالرزاق از ابن عمر نقل کرده که گفت: نماز نافله در ماه رمضان به جماعت خوانده نشود. ۵۰ و نیز از مجاهد ـکه گفت مردی نزد ابن عمر آمد و گفت در رمضان جماعت می خوانمـ پرسید آیا قرائت میخوانی، پاسخ داد: آری، گفت: آیا همچون حمار سکوت میکنی! برو در خانه ات نماز بخوان. ۵۱ ۲ ـ سرخسی از شافعی نقل کرده که گفت: مانعی نیست هر نمازی به جماعت خوانده شود; چنانکه مالک گفته و قائل به استحباب آن شده است، امّا به نظر ما مکروه است. سرخسی می افزاید: شافعی نافله را به فریضه قیاس گرفته است، در حالی که به نظر ما اصل در نوافل پنهان داشتن و پرهیز از ریا و خودنمایی است. به عکس فرایض که اصل در آنها اعلان است و جماعت چنین ویژگی را دارد. ۵۲ و نیز در فصل دوم کتاب خود گوید: طحاوی از معلی و ابو یوسف و مالک نقل کرده که گفته اند: حتّیالامکان در خانه اقامه کند. و شافعی گوید: تراویح به صروت فرادی افضل است; زیرا دور از تظاهر است. عیسی بن ابان و بکار بن قتیبه و مزنی از شافعیه و احمد بن علوان قائل به افضل بودن جماعتاند مطابق مشهور اکثریّت علما. سرخسی سپس به حدیث اباذر استناد کرده، می گوید: گروهی از اهل بدعت منکر جواز اقامه آن به جماعت در مسجد شده اند ولی چون این شعار اهل سنّت است لذا از شعائر اسلامی به حساب می آید! ۵۳ در حاشیه سخن سرخسی نگارنده گوید: نمی دانم سرخسی به چه کسی گوشه می زند و کدامین را نکوهش می کند! و مقصود او از اهل بدعت کیست؟ با اینکه خلیفه (عمر) گفت: این بدعت خوبی است! و شافعی قائل به کراهت جماعت است و آن را اصل در نوافل دانسته یا اینکه به امثال بغوی گوشه میزند که قائل به افضل بودن انفراد است و به عمل و سیره پیامبر استناد کرده که فرمود: «در خانه هایتان نماز بخوانید». یا بر امامیّه تعریض می زند که قائل به عدم مشروعیت جماعت نوافل در مواردی هستند که دلیل وجود ندارد؟! و بالأخره چرا اقامه نافله به جماعت، شعار اهل سنّت شده؟ با اینکه عمر اقرار به بدعت بودنش دارد و خود او ترجیح میداد تنها بخواند و در عهد پیامبر خوانده نشد و نیز در خلافت ابوبکر و بخشی از دوران عمر و گروهی از اعلام و بزرگان اهل سنّت چون مالک و ابو یوسف و برخی شافعیه به پیروی او، قائل به کراهت اند، آیا اینها به زعم سرخسی اهل سنّت نیستند که شعار اهل سنّت (جماعت تراویح) را ترک کرده اند! ۵۴ اگر پیامبر آن را شعار اسلام و سنّت قرار نداد و صحابه نیز آن را شعار سنّت نشناختند، چگونه و به چه دلیل و از کجا این شعار سنّت شد؟ تا عامل امتیاز آنها از سایر مذاهب باشد؟ آیا این از مصادیق بارز بدعت نیست؟ به علاوه، چگونه میتوان چنین بدعتی را به جماعت در فرائض قیاس کرد، با اینکه مشروعیت جماعت در فرایض جای سخن نیست! باری، منشأ تشریع جماعت در تراویح، رأی شخصی و اجتهاد بدون دلیل و صرفاً استحسان است; چرا که خلیفه دوم گفته است: به نظر من اگر یک امام با این جماعت نماز بخواند بهتر خواهد بود! و جز این مستندی ندارد. موصلی، بغوی، قسطلانی و دیگر فقهای عامه نیز به بحث در باره این موضوع پرداخته و دیدگاههای مختلفی ابراز کرده اند; از جمله قسطلانی با نقل قول برخی فقها در افضلیت اقامه نافله در خانه و به صورت فرادی، آن را مستند به فعل رسول الله(صلی الله علیه و آله) نموده که آن حضرت در خانه و فرادی به جا می آوردند و اعتراف عمر را نیز به همین ترتیب آورده و اختیار این قول را به مالک و ابویوسف و برخی شافعیه نسبت داده و از زهری نقل کرده که می گفت رسول خدا درگذشت و سیره بر این جاری بود که نافله را هر کسی در خانه اش فرادی بخواند تا اینکه عمر آمد و مردم را توصیه کرد که با ابیّبن کعب به جماعت برگزار کنند و این شیوه بعد از آن معمول گردید. ۵۵ همچنین شوکانی از قول مالک و ابو یوسف و برخی شافعیه و دیگران نقل کرده که گفته اند: افضل فرادی و انجام نافله در خانه است، به دلیل قول رسول الله که فرمود: «افضل صلوة المرء فی بیته إلاّ المکتوبة.»، افضل این است که شخص نماز خود را در خانه بخواند بجز نمازهای واجب. شوکانی اضافه می کند که این حدیث مورد اتفاق است و این در حالی است که عترت (اهل بیت پیامبر(صلی الله علیه وآله)) نیز گفتهاند که جماعت خواندن نافله بدعت است. ۵۶ فتوای علمای امامیّه عموم فقهای امامیه با جماعت خواندن نافله را بدعت می دانند; از جمله آنها سیّدمرتضی است که میگوید: امّا تراویح، بدون شبهه بدعت است، همانگونه که در روایت نبوی است که فرمود: «أَیُّهَا النَّاسُ إِنَّ الصَّلاةَ بِاللَّیْلِ فِی شَهْرِ رَمَضَانَ مِنَ النَّافِلَةِ فِی جَمَاعَة بِدْعَةٌ» . «مردم! نماز نافله شب را در ماه رمضان به جماعت خواندن بدعت است.» ۵۷ و روایتی نیز هست که عمر در یکی از شبهای ماه رمضان وارد مسجد شد، دید چراغها را برای نماز جماعت روشن کرده اند. پرسید: قضیّه چیست؟ گفتند: مردم برای نماز مستحبی اجتماع کردهاند. عمر گفت: «بِدْعَةٌ فَنِعْمَةِ الْبِدْعَة»; «بدعت است امّا بدعت خوبی است!» چنانکه ملاحظه می کنیم عمر به بدعت بودنش معترف بود و از قول نبی اکرم(صلی الله علیه وآله)است که فرمود: «کُلُّ بِدْعَة ضَلالَةٌ»; «هر بدعتی گمراهی است». روایت دیگری در این خصوص وجود دارد که مردم کوفه در مسجد اجتماع کرده بودند و از امیرمؤمنان، علی(علیه السلام)خواستند کسی را به امامت برگزیند تا نافله ماه رمضان را با وی اقامه کنند و حضرت آنان را نکوهش کرد و فرمود: این خلاف سنّت است. ۵۸ سیّد مرتضی (از فقهای امامیّه) نیز میگوید: ادّعای قاضی القضاة که نافله گزاری با جماعت، در ماه رمضان، در زمان پیامبر(صلی الله علیه و آله) وجود داشته و سپس آن حضرت ترک نموده است، مغالطهای بیش نیست; چرا که ما نافله ماه رمضان را به صورت فرادی منکر نیستیم بلکه جماعت خواندن آن را قبول نداریم و اگر کسی مدعی شود که پیامبر(صلی الله علیه و آله) در زمان خود به جماعت خواندند، این ادعا نوعی زورگویی است که کسی به آن تن نداده است و اگر چنین بود، عمر نمی گفت: «إِنَّها بِدْعَةٌ»; «این یک بدعت است.» سیّد مرتضی، همچنین می فرماید: «به نظر میرسد که امامیّه در ممنوعیّت اقامه جماعت در نافله های ماه رمضان منفرداند و آن را ناپسند می دانند و بیشتر فقهای عامّه نیز با این رأی موافق می باشند. معلی از ابویوسف نقل می کند که گفت: اگر کسی بتواند در ماه رمضان نافله را در خانه خود اقامه کند، همانگونه که امام می خواند، به نظر من بهتر آن است که چنین کند. مالک نیز می گوید: ربیعه و بسیاری از علمای ما، هنگامی که نافله به جماعت اقامه می شد مسجد را ترک می کردند و با جماعت نماز نمی خواندند و من نیز چنین میکردم; چرا که پیامبر نافله را جز در خانه اقامه نکرد. شافعی هم می گوید: به نظر من نماز فرادی در نافله رمضان بهتر است. اینها مطالبی است که طحاوی در کتاب «الاختلاف» نقل کرده است. بنابراین، موافقین امامیّه در این مسأله بیشتر از مخالفان هستند. دلیل ما در این مسأله، یکی «اجماع» است و دیگری «طریق احتیاط»; زیرا کسی که در خانه فرادی بخواند به اجماع همه نه بدعت گذار است و نه گنهکار، در حالیکه اقامه آن به جماعت، مظنّه گناه و بدعت می باشد. سیّد مرتضی سپس میافزاید: عمر نیز خود معترف بود که خلاف سنّت است و حکم بدعت را دارد و خود آنها (عامّه) روایت میکنند که پیامبر اکرم(صلی الله علیه وآله) فرمود: «کُلُّ بِدْعَة ضَلالَةٌ وَ کُلُّ ضَلالَة فِی النَّارِ»; «هر بدعتی گمراهی است و هر گمراهی در آتش جای دارد.» ۵۹ موضوع تراویح در اصل مقاله، با بحثهای روایی و فقهی دنبال شده و دلائل روایی بسیاری، از منابع امامیّه، در خصوص بدعت بودن تراویح نیز آمده است. همچنین جرح و تعدیل دلایل فریقین در مسأله مورد بحث، همچنان ادامه دارد که خوانندگان را به مطالعه اصل مقاله توصیه می کنیم و برای ترجمه و تلخیص همین مقدار را کافی می دانیم. پى نوشت ها: ۱ . نکـ: بحار الأنوار، ج۱، ص۳۶۳; فتح الباری، ج۴، ص۲۹۴; ارشاد الساری، ج۴، ص۶۹۴; شرح الزرقانی، ج۱، ص۲۳۷; النهایه، ج۱، ص۲۷۴; لسان العرب، قاموس و… ۲ . سبل السلام، ج۲، ص۱۱ ۳ . السنن الکبری، ج۲، ص۷۰۰ ۴٫ بخاری، ج۱، ص۳۴۳; مسلم، ج۱، ص۵۲۳; موطأ، ج۱، ص۱۱۳ و… ۵٫ بخاری، ج۱، ص۳۴۳ ۶٫ نیل الأوطار، ج۳، ص۵۱ ۷٫ بخاری، ج۱، ص۳۴۳ ۸٫ بخاری، ج۱، ص۳۴۳ ۹٫ نیل الأوطار، ج۳، ص۵۰ ۱۰٫ تهذیب الکمال، ج۲۰، صص۴۰ و۱۳۶; سیر اعلام النبلاء، ج۱۰، ص۶۱۲ ۱۱٫ بخاری، ج۱، ص۳۴۳ ۱۲٫ نکـ: بحار الأنوار، ج۳۱، ص۱۲ ۱۳٫ التهذیب، ج۳، ص۶۲ ح۱; الاستبصار، ج۱، ص۴۶۲ ح۱۷۹۱; وسائل الشیعه، ج۸، ص۲۹، ح۲ ۱۴٫ التذهیب، ج۳، ص۶۸، ح۲۱; وسائل الشیعه، ج۸، ص۲۹، باب ۷، ح۱ ۱۵٫ التهذیب، ج۳، ص۶۲، ح۶; الإستبصار، ج۱، ص۴۶۲، ج۱۷۹۶; وسائل، ج۸، ص۲۹، باب ۷، ح۲ ۱۶٫ سرخسی میگوید: امّت اجماع بر مشروعیت نوافل رمضان و نماز تراویح دارند و احدی از اهل دانش جز رافضیها منکر آن نیست. المبسوط، ج۲، ص۱۴۵۲٫ (سرخسی میان نوافل رمضان و نماز تراویح خلط کرده است. اصل نوافل رمضان را فقهای امامیّه منکر نیستند، چیزی که مورد اعتراض امامیّه است، به جماعت خواندن آن میباشد، «مترجم» ۱۷٫ مفتاح الکرامه، ج۳، ص۲۵۵ ۱۸٫ نکـ: الحدائق الناظره، ج۱۰، ص۵۰۹ ۱۹٫ امالی صدوق، ص۷۴۷; مجلس، ص۹۳، به نقل مفتاح الکرامه، ج۳، ص۲۵۵ ۲۰٫ المغنی، ج۲، ص۱۶۷ ۲۱٫ نکـ: المغنی، ج۲، ص۱۶۷; السنن الکبری، ج۲، ص۶۹۹، وافزوده اسناد این روایت ضعیف است. ۲۲٫ حاشیه المغنی، ج۲، ص۱۶۷ ۲۳٫ المبسوط، ج۲، ص۱۴۵ ۲۴٫ عمدة القاری، ج۱۱، ص۱۲۷ و… ۲۵٫ الاختیار، ج۱، ص۹۵ ۲۶٫ التهذیب فی فقه الشافعی، ج۲، ص۳۶۸ ۲۷٫ الحاوی الکبیر، ج۲، ص۳۶۸ ۲۸٫ نکـ: عمدة القاری، ج۱۱، ص۱۲۷ و… ۲۹٫ الإنتصار، ص۵۵ ۳۰٫ الخلاف، ج۱، ص۵۳۰ مسأله ۴۵۹ ۳۱٫ الکافی فی الفقه، ص۱۵۹ ۳۲٫ اشارة السبق، ص۱۰۵ ۳۳٫ قواعد الأحکام. ۳۴٫ مستند الشیعه، ج۶، ص۳۷۹ ۳۵٫ مفتاح الکرامه، ج۳، ص۲۵۵ ۳۶٫ من لا یحضره الفقیه، ج۲، ص۱۳۹ ۳۷٫ ریاض المسائل، ج۴، ص۱۹۷٫ نکـ: جواهر الکلام، ج۱۲، ص۱۸۷ ۳۸٫ نکـ: حدائق، ج۱، ص۵۰۹ ۳۹٫ نکـ: سبل السلام، ج۲، ص۱۱ ۴۰٫ نیل الأوطار، ج۳، ص۵۳ ۴۱٫ نکـ: بحار الأنوار، ج۲۹، ص۱۵ ۴۲٫ بخاری، ج۱، ص۳۴۲; عبدالرزاق، ج۴، ص۲۵۸ ۴۳٫ ارشاد الساری، ج۴، ص۶۵۷ ۴۴٫ المغنی، ج۲، ص۱۶۶ ۴۵٫ عمدة القاری، ج۱۱، ص۱۲۶ ۴۶٫ مآثر الانافه فی معالم الخلافه، ج۲، ص۳۳۷ ۴۷٫ محاضرات الاوائل، ص۱۴۹ و شرح المواقف. ۴۸٫ طبقات ابن سعد، ج۳، ص۲۸۱; تاریخ طبری، ج۵، ص۲۲; کامل، ج۲، ص۴۱; تاریخ عمربن خطاب ابن جوزی، ص۵۲ ۴۹٫ نکـ: سبل السلام، ج۲، ص۱۰; بدایة المجتهد، ج۱، ص۲۱۰ و شرح فرقانی و… ۵۰٫ المصنف، ج۵، ص۲۶۴ ۵۱٫ همان. ۵۲٫ المبسوط، ج۲، ص۱۴۴ ۵۳٫ همان، ج۲، ص۱۴۵ ۵۴٫ علاّمه حلّی گوید: جماعت در نمازهای فریضه است نه مستحب، جز نماز استسقا و عیدین. تذکرة الفقهاء، ج۴، ص۲۳۵ ۵۵٫ ارشاد الساری، ج۴، صص۶۶۱ ـ ۶۵۴ ۵۶٫ نیل الاوطار ۳ / ۵۰; مستند الامام زید، الهامش ۱۳۹ ۵۷٫ منلایحضرهالفقیه، ج۲، ص۱۳۷، باب الصلاة فی شهر رمضان ۵۸٫ تلخیص الشافی، ج۱، ص۱۹۳ ۵۹٫ الإنتصار، ص۵۵
http://shiayan.ir برگرفته از پایگاه اطلاع رسانی شیعیان
+ نوشته شده در چهارشنبه چهارم دی ۱۳۹۲ساعت 19:0  توسط سید انعام علی نقوی
|
مشکل کار اینجاست که نوع ما مسلمانان نه به
اهمیّت، جایگاه و نقش نماز پی بردهایم و نه حجاب. معمولاً هر دو را فقط به صورت
یک تکلیف انجام میدهیم، تازه اگر عادت نشده باشد. چرا که هم نماز ممکن است عادت
شده باشد و هم حجاب. از این رو شاهدیم که گاه تکلیف به نظرمان شاقّ میرسد. لذا
برخی با کراهت انجام میدهند، برخی با اهمال انجام میدهند، برخی حتی خودشان نیز
برای آن چه انجام میدهند ارزشی قائل نیستند تا انتظار داشته باشند خداوند منّان
ارزشی قائل شود.
+ نوشته شده در سه شنبه سوم دی ۱۳۹۲ساعت 22:14  توسط سید انعام علی نقوی
|
فهرست مطالب
بسم اللّه الرحمن الرحيم درآمد توصيه بر گريه سيره رسولالله صلي الله عليه و آله و سلم الف - گريه بر عبدالمطلب ب - گريه بر ابوطالب ج - گريه بر آمنه د - گريه بر ابراهيم ه - گريه بر فاطمه بنت اسد و - گريه بر حمزه ز - گريه بر ياران مَنِش اصحاب افسانه تحريم كنكاشى در تاريخ 1 - عزادارى براى عبدالمؤمن ( م 346 ق. ) 2 - عزادارى براى جوينى ( م 478ق. ) 3 - عزادارى براى ابن جوزى ( م 597 ق. ) فهرست منابع
بسم اللّه الرحمن الرحيم درآمد گريستن بر مرده و همچنين سوگوارى و عزادارى بر او امرى برخاسته از احساس پاك و روح لطيف آدمى است. اسلام ضمن تاييد گريه، بر آن تاكيد نموده است، سيره رسول گرامى صلي الله عليه و آله و سلم و همچنين سيره و منش اصحاب بزرگ ايشان تاييدى براين مدعاست. اين دفتر، باختصار درپى تبيين روايى گريستن و عزادارى است و در اين راستا، ضمن ارائه سيره پيامبر و اصحاب، نمونههايى از گونههاى ماتم سرايى در تاريخ اسلام را تقديم داشته، به نقد و بررسى روايات تحريم گريه مىپردازد. نجم الدين طبسى توصيه بر گريه گريستن بر درگذشتگان و عزادارى بر ايشان امرى برخاسته از احساس است و هر مصيبت زده ايى را به سمت خود مىكشاند. رسول گرامى اسلام حضرت محمد مصطفى صلي الله عليه و آله و سلم چنين امرى را سزاوار و شايسته دانسته، بر گريه كردن توصيه مىفرمود. اسامه بن زيد مىگويد: روزى فرزند دختر پيامبر درگذشت، دختر غم ديده آن حضرت، اين واقعه را به پدر خبر داد و از ايشان درخواست حضور نمود. رسول خدا صلي الله عليه و آله و سلم نيز به همراه سعد بن عباده، معاذ بن جبل، ابى بن كعب، زيد بن ثابت و جمعى از ياران به منزل دختر غم ديده خويش رفت، پيامبر مهربان كودك را در بغل گرفت و بشدت گريست و اشكان مبارك سرازير گشت؛ سعد با مشاهده گريه پيامبر، با تعجب پرسيد: چرا گريه مىكنيد؟! رسول خدا صلي الله عليه و آله و سلم در پاسخ چنين فرمود: « رحمة يجعلها فى قلوب عباده، انما يرحم اللَّه من عبادة الرحماء؛ ترحم بر اين كودك است كه خداوند در دل بندگان خود رحمت قرار مىدهد، و خداوند بندگان رحيم خود را مورد رحمت قرار مىدهد. » سنن النسائى، ج 4، ص 22، صحيح بخارى، ج 1، ص 223. پس از پايان نبرد احد رسول اكرم صلي الله عليه و آله و سلم راهى شهر مدينه شد، در آن هنگام زنان انصار در سوگ شهداى خويش مىگريستند. پيامبر با شنيدن مويه عزاداران، از شهادت و غربت عمويش حمزه ياد كرد و فرمود: « و لكن حمزة لا بواكى له؛ اما عمويم حمزة گريه كنندهاى ندارد. » پيامبر پس از اندكى استراحت، صداى ناله زنان انصار را شنيدند كه براى حمزه مىگريستند. ابن عبدالبر مىگويد: تا به امروز زنان انصار پيش از گريه بر مردگان خويش، نخست بر حمزه مىگريند. الاستيعاب، قرطبى، ج 1، ص 275؛ مسند احمد، ج 2، ص 40؛ شفاء الغرام، ج 2، ص 347. همچنين پس از كشته شدن جعفر پسر ابى طالب در نبرد موته، پيامبر به خانه او رفت و با حضور خويش تسلى دل خاندان او گرديد، آن حضرت به هنگام خروج چنين فرمود: « على مثل جعفر فلتبك البواكى؛ سزاوار است بر مثل جعفر گريستن، پس گريه كنندگان بر همچون جعفر بگريند. » انساب الاشراف، بلاذرى، ج 2، ص 298. ديدگاههاى افراطى و دور از احساس و عاطفه كه با گريه كردن مخالفت مىكردند در نزد پيامبر جايگاهى نداشت و آن حضرت در برابر آن موضعگيرى مىفرمود؛ به گفته مورخان: روزى رسول خدا صلي الله عليه و آله و سلم در تشييع جنازه يكى از مسلمانان حضور يافتند و عمر نيز به همراه ايشان حركت كرد. عمر تا صداى گريه زنان را شنيد برآشفت و آنان را از گريستن نهى كرد! رسول خدا صلي الله عليه و آله و سلم رو به عمر كرده، چنين فرمود: « يا عمر! دعهُنَّ، فان العين دامعة و النفس مصابة و العهد قريب؛ اى عمر! كارى به آنان نداشته باش، بگذار بگريند، همانا كه چشم گريان است و نفس مصيبت زده است و پيوند با تازه درگذشته بسيار نزديك. » مستدرك حاكم، ج 1، ص 381؛ مسند احمد، ج 2، ص 323، كنز العمال، ج 15، ص 621. سيره رسولالله صلي الله عليه و آله و سلم گريه در غم و اندوه از دست رفته را مىتوان در آيينه حيات پيامبر اكرم صلي الله عليه و آله و سلم ديد؛ مورخان گونههاى مختلفى از گريستن آن حضرت را در فقدان خويشان و ياران عزيزش روايت كردهاند؛ از جمله مىتوان به موارد ذيل اشاره كرد: الف - گريه بر عبدالمطلب پس از درگذشت حضرت عبدالمطلب، حضرت محمد صلي الله عليه و آله و سلم بر جد عزيزش گريست؛ ام ايمن مىگويد: « أَنا رأيت رسول اللَّه يمشى تحت سريره و هو يبكى؛ من پيامبر را ديدم كه در پى جنازه عبدالمطلب راه مىرفت در حاليكه مىگريست. » تذكرة الخواص، ص 7. ب - گريه بر ابوطالب درگذشت حضرت ابوطالب، عموى با ايمان و حامى عزيز پيامبر، نيز بر آن حضرت بسيار گران آمد، حضرت على ( ع ) مىفرمايد: چون خبر رحلت پدرم ابوطالب را به پيامبر دادم، ايشان گريست و آنگاه فرمود: « اذهب فاغسله و كفّنه و واره غفراللَّه له و رحمه؛ او را غسل دهيد و كفن كنيد و به خاك بسپاريد، خداوند او را بيامرزد و مورد رحمت خويش قرار دهد. » الطبقات الكبرى، ابن سعد، ج 1، ص 123. ج - گريه بر آمنه روزى پيامبر صلي الله عليه و آله و سلم قبر مادر عزيز خود آمنه را در ابواء زيارت كرد. به گفته مورخان، آن حضرت در كنار قبر مادر گريست و همراه خود را نيز به گريستن انداخت. المستدرك، ج 1، ص 357؛ تاريخ المدينة، ابن شبّه، ج 1، ص 118. د - گريه بر ابراهيم ابراهيم تنها پسرى بود كه در مدينه نصيب رسولخدا صلي الله عليه و آله و سلم شد، اما در يك سالگى درگذشت و پدر را در غم فقدان خويش به سوگ نشاند. پيامبر اكرم صلي الله عليه و آله و سلم در ماتم فرزندش گريست، و در برابر پرسش ياران كه از علت گريه پيامبر بر مرده جويا شده بودند، چنين پاسخ فرمود: « تدمع العينان و يحزن القلب و لانقول مايسخط الربّ؛ اشك چشم جارى مىشود و دل غمگين مىگردد، ولى سخنى كه خدا را به سخط و غضب آورد بر لب نمىآورم. » العقد الفريد، ج 3، ص 19. ه - گريه بر فاطمه بنت اسد فاطمه بنت اسد، همسر حضرت ابوطالب و مادر حضرت على ( ع )، در نزد پيامبر بسيار محبوب بود، همو در سرپرستى رسولخدا صلي الله عليه و آله و سلم بسيار اهتمام ورزيد. چون فاطمه در سال سوم هجرى درگذشت، پيامبر كه او را همچون مادر خويش مىدانست از رحلتاش بسيار اندوهناك شد و گريست، مورخان مىگويند: « صلّى عليها و تمرغ فى قبرها و بكى؛ پيامبر بر او نماز خواند و در قبرش خوابيد و بر او گريست. » ذخائر العقبى، ص 56. و - گريه بر حمزه حمزه فرزند عبدالمطلب، از چهرههاى برجسته و قهرمان اسلام بود كه در نبرد احد به شهادت رسيد. رسول خدا صلي الله عليه و آله و سلم در شهادت عموى خويش بسيار غمگين شد و او را سيدالشهداء ناميد و در فراقش گريست: « لمّا رأى النبى حمزة قتيلا، بكى فلمّا راى ما مثّل به شهق؛ پيامبر چون پيكر خونين حمزه را يافت گريست و چون از مثله كردن او آگاهى يافت با صداى بلند گريه سر داد. » السيرة الحلبية، ج 2، ص 247. ز - گريه بر ياران فقدان برخى از ياران همراه، نيز قلب پيامبر را مىآزرد و اشك مباركش را جارى مىساخت؛ رسول خدا صلي الله عليه و آله و سلم در حالى كه بر مرگ عثمان بن مظعون مىگريست، بر پيكر بى جان او بوسه زد. « ان النبى قبّل عثمان بن مظعون و هو ميت و هو يبكى ». المستدرك على الصحيحين، ج 1، ص 261؛ السنن الكبرى، ج 3، ص 407. همچنين آن حضرت پس از غزوه حمراء الاسد، به ديدار خانواده سعد بن ربيع، يكى از شهداى نبرد احد رفت و در آن جا از حماسه و جانبازى سعد ياد كرد، خانواده سعد نيز با شنيدن سخنان پيامبر مىگريستند، رسول خدا نيز گريه كرد و آنان را از گريستن نهى نفرمود. « فجلسنا و رسول اللَّه صلي الله عليه و آله و سلم يحدِّثنا عن سعد بن ربيع، يترحّمُ عليه و يقول لقد رأيتُ الأَسنَّة شرعت اِليه يومئذٍ حتّى قُتِل فلما سمع ذلك النسوة، بكين فدمعت عينا رسول اللَّه، و ما نهاهن عن شىء ». المغازى، ج 1، ص 329. * * * مَنِش اصحاب در ميان ياران و اصحاب پيامبر، گريستن و سوگوارى بر درگذشته امرى رايج بود، در تاريخ نمونههاى بسيارى از سوگوارى اصحاب بر درگذشتگان خود را ثبت كردهاند؛ به عنوان مثال مىتوان به موارد ذيل اشاره كرد: به گفته سعيد بن مسيب، به هنگام فوت رسول گرامى اسلام، شهر مكه از شدت ناله و گريه مردم به لرزه درآمد. « لما قبض النبىصلي الله عليه و آله و سلم ارتجت مكة بصوت ». اخبار مكة، فاكهى، ج3، ص 80. عايشه مىگويد: « پس از فوت رسولخدا صلي الله عليه و آله و سلم برخواستم و ( در سوگ پيامبر ) به همراه ساير زنان بر صورت و سينه مىزديم. » « و قمتُ التدم ( اضرب صدرى ) مع النساء و اضرب وجهى ). السيرة النبوية، ج 4، ص 305. عبداللَّه بن رواحه بر حمزة گريست و اشعارى را در رثاى او خواند. السيرة النبوية، ج 3، ص 171. چون خبر مرگ نعمان بن مقرن را به عمر بن خطاب دادند، او در سوگ وى دست بر سر گزارد و برايش گريه كرد. « عن أبى عثمان: اتيتُ عمر بنعى النعمان بن مقرن، فجعل يده على راسه و جعل يبكى ». المصنف ابن أبى شيبة، ج 3، ص 175. پس از مرگ عمر، چون ابن مسعود كنار قبر وى ايستاد، براى او گريست. « فوقف ابن مسعود على قبره يبكى ». العقد الفريد، ج 4، ص 283. * * * افسانه تحريم گروهى از عالمان اهل سنت، سوگوارى و گريه بر درگذشتگان را تحريم كرده و بر خلاف توصيه و روش نبى اسلام صلي الله عليه و آله و سلم و شيوه اصحاب با آن مخالفت كردهاند. بى شك با نگاه و تامل به مستندات گفتههاى آنان، تحريم و ممنوعيت عزادارى افسانهاى بيش نخواهد بود. موضوع تحريم سوگوارى و پاسخ آن را در دو پرتو و يك نتيجه به نظاره مىنشينيم: پرتو اوّل مخالفان گريه و عزادارى، روايات چندى را در ممنوعيت گريه و عزادارى برشمردهاند؛ از جمله: 1 به پيامبر صلي الله عليه و آله و سلم اين سخن را نسبت دادهاند كه مرده به جهت گريه و شيون بازماندگان در قبر عذاب مىشود: « الميّت يعذب فى قبره بما نيح عليه. » صحيح بخارى، ج 1، ص 223، كتاب الجنائز؛ صحيح مسلم، ج 3، ص44، كتاب الجنائز؛ جامع الاصول، ج 11، ص 99، شماره 857. « ان الميّت ليعذب ببكاء اهله عليه. » همان. 2 به گفته سعيد بن مسيب، عايشه به هنگام فوت پدرش ابوبكر، مجلس سوگوارى برپا نمود. چون خبر آن به عمر رسيد، وى دستور داد تا از آن جلوگيرى كنند. اما عايشه از دستور خليفه سرپيچى كرد. در واكنش، عمر، هشام بن وليد را مامور ساخت تا نزد عايشه رفته و با زور شلاق از نوحه و گريه عزاداران جلوگيرى نمايد. زنان چون از ماموريت هشام آگاه شدند، مجلس را ترك كرده و پراكنده شدند. آنگاه عمر اين سخن را خطاب به آنان گفت: « تردن ان يعذب ابوبكر ببكائكن! ان الميت يعذب ببكاء اهله عليه؛ مىخواهيد با گريه خود ابوبكر را عذاب كنيد! همانا مرده با گريه نزديكان خويش عذاب مىشود. » صحيح الترمذى، رقم 1002. 3 اين سخن نيز از عايشه نقل شده است كه گفت: با رسيدن خبر شهادت جعفر بن ابى طالب، زيد بن حارثه و عبدالله بن رواحه، آثار حزن و اندوه در سيماى پيامبر اكرم نمايان شد. من از گوشهاى او را كه نشسته بود نظاره مىكردم. در آن حال مردى به حضور ايشان رسيد و گفت: اى رسول خدا! زنان بر جعفر گريه مىكنند! پيامبر در واكنش به او فرمود: « فارجع اليهن فاسكتهن، فان ابين فاحث فى وجوههن التراب؛ برگرد و آنان را ساكت ساز، اگر آرام نشدند خاك بر صورتشان بپاش!. » المصنف، ابن ابى شيبة، ج 3، ص 265. 4 از نصر پسر ابى عاصم نقل است كه: شبى عمر صداى نوحه عزاى زنى را از يكى از خانههاى مدينه شنيد، بى درنگ وارد خانه شد و زنان را پراكند و زن نوحه سرا را با تازيانه خود مضروب كرد، به گونهاى كه روسرى او از سرش افتاد. همراهان خليفه با مشاهده اين صحنه به او گفتند: اى خليفه! موهاى زن نمايان شد. عمر در پاسخ چنين گفت: « أَجل، فلا حرمة لها؛ آرى، اين زن احترام ندارد. » كنزالعمال، ج 15، ص731. پرتو دوّم: در پاسخ به ادعاى تحريم، شايسته است تا روايات فوق را كه پيروان تحريم گريه و عزادارى بدان استناد كردهاند نقد و بررسى نماييم: 1 در آغاز مىتوان از ديدگاه عايشه ياد كرد؛ او روايات فوق را عارى از اعتبار مىدانست و آنها را نمىپذيرفت و به راويان آن نسبت فراموشى و اشتباه مىداد؛ نووى مىگويد: « روايات فوق از نظر عايشه پذيرفته نشده، او به راويان آن نسبت فراموشى و اشتباه مىدهد. زيرا خليفه دوم و پسرش عبداللَّه اين روايات را به صورت صحيح از پيامبر نگرفتهاند. چنانكه ابن عباس نيز مىگويد: اين روايات سخن خليفه است نه سخن پيامبر صلي الله عليه و آله و سلم. » شرح النووى، ج 5، ص 308. در اين باره، يادكرد روايات ذيل شايسته است: الف ابن مليكه از ماجرايى ياد مىكند كه بر ساختگى بودن روايت تحريم گريه گواهى مىدهد؛ او مىگويد: يكى از دختران عثمان درگذشت، به همراه عبداللَّه بن عمر و عبداللَّه بن عباس در تشييع جنازه او شركت جستيم. در ميان آن دو نشسته بودم كه عبداللَّه بن عمر از گريه مردم شِكوه كرد و به فرزند عثمان چنين گفت: چرا مردم را از گريه باز نمىداريد؟ همانا از رسول خدا صلي الله عليه و آله و سلم شنيدم كه مىفرمود: « مرده به خاطر گريه خويشانش عذاب مىشود » !. در آن حال، ابن عباس رو به ابن عمر كرده، گفت: « عمر گوينده اين حرف است ». زيرا هنگامى كه عمر بر اثر شدت زخم در بستر مرگ بود، صهيب نزد او آمد و بر باليناش گريه و ناله سر داد. عمر از اين عمل صهيب ناراحت شد و گفت: آيا بر من گريه مىكنى، در حاليكه پيامبر فرموده است كه مرده به دليل گريه نزديكانش در عذاب خواهد بود! او در ادامه چنين بيان داشت: پس از درگذشت عمر، اين سخن وى را براى عايشه بازگو كردم، وى در پاسخ چنين بيان داشت: « رحم اللَّه عمر، واللَّه ما حدث رسول اللَّه، ليعذب.. و لكن رسول اللَّه صلي الله عليه و آله و سلم قال: ان اللَّه ليزيد الكافر ببكاء اهله عليه؛ خدا عمر را رحمت كند! سوگند به خدا كه هرگز پيامبر چنين سخنى را بر لب نياورده است، بلكه ايشان چنين بيان داشت: خداوند عذاب كافر را با گريه بستگانش افزون مىكند. » عايشه سپس سخن خود را با اين جمله پى گرفت: « حسبكم كتاب اللَّه و لا تزر وازرة وزر اخرى؛ فاطر، آيه 18. قرآن شما را در اين باره كفايت مىكند كه فرمود: هيچكس گناه ديگرى را به دوش نمىكشد. » آنگاه ابن عباس بر اين جمله تاكيد كرد كه پروردگار مىخنداند و مىگرياند. روايت گر اين ماجرا مىگويد: چون سخن ابن عباس به پايان رسيد، عبداللَّه بن عمر سكوت كرد و سخنى نگفت. مسند احمد، ج 1، ص 41؛ جامع الاصول، ج 11، ص 99. ب روزى در حضور عايشه، سخنى از اين گفته عبداللَّه بن عمر به ميان آمد كه به نقل از پيامبر صلي الله عليه و آله و سلم مىگويد: ميت با گريه خويشانش در قبر عذاب مىشود! عايشه در واكنش چنين گفت: « ذهل ابن عمر! انما قال رسول اللَّه صلي الله عليه و آله و سلم انه ليعذب بخطيئته و ذنبه و انّ اهله ليبكون عليه الان؛ فرزند عمر فراموش كرده است، بلكه رسول خدا چنين فرمود: مرده در قبر به خاطر گناهانش عذاب مىشود، در حالى كه نزديكانش نيز در آن هنگام براى وى مىگريند. » شرح النووى، ج 5، ص 308. ج عايشه در فرازى ديگر مدعى است: « انكم لتحدثون عن غير كاذبين و لا مكذوبين و لكن السمع يخطى؛ عمر و فرزند او عبداللَّه، از روى عمد و آگاهى نسبت دروغ به رسول خدا صلي الله عليه و آله و سلم ندادهاند، بلكه حديث را از پيامبر صلي الله عليه و آله و سلم اشتباه شنيدهاند. » مسند احمد، ج 1، ص 42؛ جامع الاصول، ج 11، ص 93، شماره 8563. د همچنين عايشه از اين حكايت ياد مىكند كه: روزى رسول خدا صلي الله عليه و آله و سلم از كنار قبرى عبور مىكرد، بازماندگان آن مرده را ديد كه بر او مىگريند، آنگاه اين سخن را بر زبان جارى ساخت: « كسى سنگينى عمل ديگرى را بر دوش نمىكشد ». صحيح بخارى، ج 1، ص 223؛ ارشاد السارى، ج 2، ص 404. 2 روايتى كه به جلوگيرى پيامبر از گريه منسوبان جعفر بن ابى طالب اشاره داشت نيز عارى از واقعيت است؛ زيرا: الف اين روايت با روايات ديگرى كه از ترغيب پيامبر اكرم بر گريه كردن حكايت داشت، در تعارض است. سنن النسائى، ج 4، ص 19؛ مسند احمد، ج 2، ص 323؛ المستدرك على الصحيحين، ج 1، ص 381. ( به روايات ذكر شده در بخش سيره رسول اللَّه صلي الله عليه و آله و سلم رجوع شود ). ب در سند روايت فوق، شخصى بنام « محمد بن اسحاق بن يسار بن خيار » وجود دارد، كه در نزد محدثان اهل سنت و علماى علم رجال آن طايفه مورد اعتنا نيست و آنان روايات ذكر شده توسط او را « ضعيف » و « جعلى » مىدانند. عن ابن نمير: انه يحدث عن المجهولين احاديث باطلة. و عن احمد: يشتهى الحديث فياخذ كتب الناس فيضعها فى كتبه. و عنه ايضا: كان ابن اسحاق يدلّس. و عن ابى عبداللَّه: كان لايبالى عن من يحكى. و عنه ايضا: ليس بحجة. و عن احمد: لم يكن يحتج به فى السنن. و عن يحيى بن معين: ليس بذاك، ضعيف. و عنه ايضا: سقيم ليس بالقوى. و عن النسائى: ليس بالقوى. ر. ك: تهذيب الكمال، ج 16، ص 80 -70. 3 روايت ذكر شده از « نصر بن ابى عاصم » نيز دستخوش ضعف بوده و به علل ذيل بدان نمىتوان استناد كرد: الف سند آن روايت ضعيف است، زيرا در ميان راويان فردى بنام « ابراهيم بن محمد بن ابى يحيى » به چشم مىخورد و عالمان نامدار اهل سنت او را دروغگو، جعل كننده حديث و شخصى غير قابل اعتماد دانستهاند. قال احمد: كل بلاء فيه. و قال ايضا: لايكتب حديثه، ترك الناس حديثه، كان يروى احاديث منكرة، لا اصل لها، و كان يأخذ احاديث الناس يضعها فى كتبه. و قال بشر بن المفضل: سألت فقهاء اهل المدينة عنه، فكلهم يقولون: كذّاب. و قال النسائى: ليس بثقة و لايكتب حديثه. ر. ك: تهذيب الكمال، ج 1، ص 420. ب نسبت چنين ماجراى ناشايستى به خليفه مسلمين باوركردنى نيست و مىتوان آن را از واقعيت دور دانست، زيرا چگونه ممكن است كه عمر به خانه يك زن نامحرم حمله كند و او را با تازيانه مضروب سازد، به گونهاى كه روسرى زن از سرش بيفتد، و خليفه در واكنش به اعتراض ياران خود، آن زن را غير قابل احترام بپندارد! و خاطره تلخ يورش به خانه وحى را در ذهنها تجديد كند. ج در صورت صحت ماجراى فوق، آيا سؤال مطرح مىشود كه: آيا عملكرد و فعل عمر حجت است؟ با وجود آن كه او ادعاى عصمت نداشته است و ديگران نيز چنين منقبتى را براى او ذكر نكردهاند. غزالى، عالم برجسته سنى، حجت بودن قول عمر و ابوبكر را وهمى بيش ندانسته است. فقال: الاصل الثانى من الاصول الموهومة: قول الصحابى، و قد ذهب قوم الى ان مذهب الصحابى حجة مطلقا، و قوم الى انّه الحجة ان خالف القياس، و قوم الى ان الحجة فى قول ابى بكر و عمر خاصة لقوله اقتدوا باللذين بعدى، و قوم الى ان الحجة فى قول الخلفاء الراشدين اذا اتفقوا. و الكل باطل عندنا، فانّ من يجوز عليه الغلط و السهو، و لم تثبت عصمته عنه فلا حجة فى قوله، فكيف يحتج بقولهم مع جواز الخطاء. المستصفى، ج 1، ص 260؛ دراسات فقهية فى مسائل خلافية، ص138. د بى شك رفتار خليفه در راستاى سنت پيامبر نبوده است، آنچه كه ما را به اين ادعا رهنمون مىسازد آن است كه آن حضرت در حديثى او را از مقابله با گريه كنندگان باز داشت و فرمود « يا عمر! دعهن » مسند احمد، ج 2، ص 323.. و همچنين عايشه در اين مساله خاص به عمر نسبت خطا و فراموشى داده است. المجموع للنووى، ج 5، ص 308. نتيجه: با درنگ و تأمل در روايات فوق، ريشه ادعاى نهى و تحريم گريه و عزادرى بر مردگان، به عمر و فرزندش باز مىگردد. اگر با نگاه خوش بينانه به سخن عايشه بنگريم و « اشتباه در فهم » و يا « خطا در نقل » فرمايش پيامبر بپذيريم، به اين نكته خواهيم رسيد كه: رسول گرامى اسلام هرگز از سوگوارى و گريستن بر مرده مسلمان نهى نفرموده است و روايات عذاب دادن ميت به مرده كافر اشارت دارد و شامل مردگان مسلمان نمىشود. كنكاشى در تاريخ برپايى سوگوارى، مرثيه خوانى، عزادارى، نوحه خوانى و جلوههاى خاصى از مراسم بزرگداشت و تعزيت در تاريخ بسيار است. با كنكاش و جست و جو در متون تاريخى و آثار كهن اسلامى نمونههاى فراوانى مىتوان يافت كه اين امر از روايى و همچنين عادى بودن برگزارى چنين محافلى حكايت مىكند و بر مرسوم بودن آن گواهى مىدهد؛ واكنش مردم مدينه نسبت به شنيدن خبر شهادت امام حسين ( ع ) يكى از نمونههاى آشكار و گوياى اين مدعاست، طبرى در تاريخ خود به نقل از يكى از راويان چنين مىنويسد: « فلم اسمع واللَّه واعية مثل واعية نساء بنى هاشم فى دورهن على الحسين؛ به خدا سوگند، من سوگواريى همچون ناله و گريه زنان بنى هاشم در مصيبت حسين ( ع ) نشنيدهام. » تاريخ الطبرى، ج 3، ص 341 و 342. ابن كثير در تاريخ خود چنين مىنويسد: در روز عاشورا از سبط ابن جوزى در دمشق خواسته شد كه بر فراز منبر رفته و از مقتل و چگونگى شهادت امام حسين ( ع ) براى مردم سخن گويد. سبط ابن جوزى اين خواسته را پذيرفت و بر بالاى منبر تكيه زد، او پس از يك سكوت طولانى، دستمال خويش بر صورت نهاد و گريه شديدى سرداد و آنگاه در حالى كه مىگريست اين دو بيت شعر را سرود: ويل لمن شفعاؤه خصماؤه * و الصور فى نشر الخلايق ينفخ لابد أن ترد القيامة فاطم * و قميصها بدم الحسين ملطخ واى به حال كسى كه شفيعاش دشمن او باشد! در هنگامه قيامت، كه براى بيرون آمدن مردم از زمين « قبور » در صور دميده مىشود. سرانجام در قيامت فاطمه زهرا وارد محشر مىشود، در حالى كه پيراهناو به خون حسين ( ع ) آغشته است. سپس سبط ابن جوزى از منبر پايين آمد و اشك ريزان به خانه خويش رفت. البداية و النهاية، ج 13، ص 207 ( حوادث 654 هجرى قمرى ). در تاريخ همچنين نمونههاى از برپايى عزادارى مردم براى درگذشت شخصيت هاى اهل سنت ثبت است؛ به عنوان مثال مىتوان به موارد ذيل اشاره كرد: 1 - عزادارى براى عبدالمؤمن ( م 346 ق. ) عبدالمؤمن بن خلف، از فقيهان مذهب ظاهرى و پيرو مكتب محمد بن داود است. نسفى درباره خاكسپارى وى چنين مىگويد: در تشييع جنازه عبدالمؤمن شركت جستم، صداى طبل و دهل آن چنان گوش خراش بود گويا آنكه لشكرى به شهر بغداد يورش برده است. اين مراسم ادامه داشت تا آنكه مردم براى برپايى نماز ميت آماده شدند. » تاريخ مدينة دمشق، ابن عساكر، ج 10، ص 272؛ سير اعلام النبلاء، ج 15، ص480. 2 - عزادارى براى جوينى ( م 478ق. ) ذهبى از درگذشت جوينى و مراسم سوگوارى او چنين ياد مىكند: « نخست او را در منزلاش به خاك سپردند و آنگاه پيكرش را به مقبرة الحسين ( شايد كربلاى معلى ) انتقال دادند. در ماتم او منبرش را شكستند، بازارها را تعطيل كردند و مرثيههاى فراوانى در مصيبت اش خواندند. او چهارصد شاگرد و طلبه داشت، آنان در سوگ استاد خويش، قلم و قلمدانهاى خود را شكستند و يك سال عزادارى نمودند و عمامههاى خود را به مدت يك سال از سر برداشتند بدان حد كه كسى جرات به سر گذاشتن عمامه را نمىداشت. آنان در اين مدت در سطح شهر به نوحه خوانى و مرثيه سرايى پرداختند و در فرياد و جزع زياده روى كردند! » سير اعلام النبلاء، ج 18، ص 468؛ المنتظم، ج 9، ص 20. 3 - عزادارى براى ابن جوزى ( م 597 ق. ) سبط بن جوزى در شب جمعه سيزدهم ماه رمضان فوت كرد. ذهبى درباره بازتاب مرگ او مىنويسد: «.. با درگذشت او، بازارها تعطيل گرديد و جمعيت زيادى در مراسم او حضور يافتند، فراوانى مردم و فزونى گرما سبب شد كه بسيارى از سوگواران روزه خويش را خوردند!، بعضى خود را به دجله انداختند.. از كفن اندكى ماند.. مردم تا پايان ماه رمضان در كنار قبر او شب را به صبح رساندند، آنان شمع و چراغ و قنديل آوردند و قرآن را ختم كردند. مراسم عزادارى را روز شنبه برپا كرديم، سخنرانان درباره او به سخن پرداختند، جمعيت بسيارى شركت جستند و درباره او مرثيهها گفته شد. » سير اعلام النبلاء، ج 18، ص 379. سخن پايانى مورخان بنام اهل سنّت، بآسانى و مسامحه صحنههاى سوگوارى و عزادارى مردم براى عالمان سنى مذهب را گزارش كرده و آن را بدون هيچ تحليل و يا نقدى نقل كرده و گاه به بزرگى از آن ياد نمودهاند، اما هم ايشان در برابر عزادارى و ماتم سرايى شيفتگان امام حسين ( ع ) به تندى تاخته و در موضعگيرى خشن و سرشار از تعصب خويش، آن را مولود بى خردى و دورى از سنت قلمداد مىكنند! ر. ك: العبر، ج 2، ص 89؛ تاريخ الاسلام، ( حوادث 351 هجرى )، ص 11؛ الكامل، ج 8، ص 549. براستى اين دوگانگى از چيست؟ فهرست منابع القرآن الكريم أخبار مكة، ابوعبداللَّه فاكهى، 240 ه'. ارشاد السارى، قسطلانى، ت 923 ه'. أنساب الأشراف، احمد بن يحيى بلاذرى، ت 279 ه'. الأستيعاب، ابن عبدالبرّ قرطبى، ت 463 ه'. البداية و النهاية، ابن كثير دمشقى، ت 774 ه'. تاريخ الاسلام، شمس الدين ذهبى، ت 748 ه'. تاريخ الأمم و الملوك، ابوجعفر طبرى، ت 310 ه'. تاريخ المدينة المنورة، ابوزيد النميرى، ت 262 ه'. تاريخ مدينة دمشق، ابن عساكر، ت 571 ه'. تذكرة الخواص، سبط ابن الجوزى، ت 654 ه'. تهذيب التهذيب، ابن حجر عسقلانى، ت 852 ه. تهذيب الكمال، ابوحجّاج مزى، ت 742 ه'. جامع الاصول، ابن اثير جزرى، ت 606 ه'. الجامع الصحيح، محمد بن عيسى ترمذى، ت 297 ه. دراسات فقهية فى مسائل خلافية، نجم الدين طبسى ذخائر العقبى، محب الدين طبرى، ت 694 ه'. السنن الكبرى، ابوبكر بيهقى، ت 458 ه'. سنن النسائى، احمد بن شعيب، ت 303 ه'. سير اعلام النبلاء، شمس الدين ذهبى، 748 ه'. السيرة الحلبية، برهان الدين حلبى، 1044 ه'. السيرة النبوية، ابن هشام، ت 213 ه'. شرح النووى، محيى الدين نووى، ت 676 ه'. شفاء الغرام، محمد بن احمد حسنى، ت 832 ه'. صحيح البخارى، محمد بن اسماعيل بخارى، ت 256 ه'. صحيح مسلم، مسلم بن الحجاج قشيرى، ت 261 ه'. الطبقات الكبرى، محمد بن سعد بصرى، ت 230 ه'. العبر فى خبر من غبر، شمس الدين ذهبى، ت 748 ه'. العقد الفريد، ابن عبدربه اندلسى، ت 327 ه'. الكامل فى التاريخ، ابن اثير جزرى، ت 630 ه'. كنز العمال، متقى هندى، ت 911 ه'. المستدرك على الصحيحين، ابوعبداللَّه حاكم، ت 405 ه'. المستصفى، ابوحامد غزالى، ت 505 ه'. المسند، احمد بن حنبل، ت 241 ه'. المصنف، ابن أبى شيبة، ت 235 ه'. المغازى، محمد بن عمر واقدى، ت 207 ه'. المنتظم، ابوالفَرَج ابن الجوزى، ت 597 ه'.
+ نوشته شده در سه شنبه سوم دی ۱۳۹۲ساعت 18:24  توسط سید انعام علی نقوی
|
در روايات و سخنان حيات بخش پيشوايان شيعه، گلواژه انتظار مفهومي بس ژرف و پرارج دارد. گويا انتظار زيباترين و كاملترين جلوة بندگي حق تعالي است، به گونهاي كه رسول خدا(صلي الله عليه و آله) انتظار فرج را برترين عبادت و افضل اعمال امتش ميخواند.[1] به همين تناسب در فرهنگ ديني و در روايات ما، منتظران از جايگاه والا و ممتازي برخوردارند و تعابير مهمي در مقام و منزلت آنها بيان شده تا جائيكه پيامبر اكرم(صلي الله عليه و آله) آنان را برادران خود مينامند و اميرمؤمنان علي(عليهالسلام) ميفرمايد: منتظران امر ما مانند كساني هستند كه در راه خدا به خون خود غلطيدهاند.[2] و امام سجاد(عليهالسلام) دربارة ايشان ميفرمايند: مننتظران ظهور برترين مردمان همه روزگارانند،[3] كه خداوند به ايشان اجر هزار شهيد از شهداي بدر و احد عطا ميكند.[4] آنان به مجاهدان پيكارگري مانند كه در پيش روي رسول خدا(صلي الله عليه و آله) با شمشير نبرد ميكنند.[5] امام كاظم(عليهالسلام) دربارة شيعيان و منتظران عصر غيبت ميفرمايند: خوشا به احوالشان، به خدا سوگند آنان در روز قيامت، در مرتبة ما و با ما خواهند بود.[6] به راستي، سِرِ برخورداري منتظران از چنين جايگاه رفيع و منزلت بيبديلي كه فرشتگان مقرب الهي نيز به آنان غبطه ميخورند، در چه چيزي نهفته است؟ هر چه هست به حقيقت انتظار برميگردد. مگر انتظار چيست كه تا اين حد كمال آفرين و تكامل بخش است؟ اين چه حقيقتي است كه انسان را به مرتبة ملكوتيان و بالاتر از آنان سوق ميدهد. آري! اين ها همه به مفهوم واقعي انتظار و وظايف منتظران بر مي گردد که در اين قسمت پيرامون آن توضيحاتي به خوانندگان محترم ارائه مي دهيم
+ نوشته شده در سه شنبه سوم دی ۱۳۹۲ساعت 18:19  توسط سید انعام علی نقوی
|
انتظار، سرفصل اميد به آيندهاي روشن و مايه عشق و شور و اميد و تلاش براي آمادهسازي خود و جامعه براي آمدن و ظهور امام منتظر است. انتظار، هرگز يک روحية بازدارنده، فلجکننده و يأسآور نيست، بلکه موجب دورکردن عنصر بدبيني به آينده، از نهاد انسان در جامعة بشري است. انتظار، معيار ارزش انسانها است. آرزوها و آمال انسانها معيار خوبي براي سنجش ميزان رشد و تعالي آنها است. آرزوهاي متعالي، حکايت از کمال روح و رشد شخصيت انسانها ميکند؛ برعکس آرزوهاي حقير و بيارزش، نشان از بياهميتي و رشدنيافتگي افراد دارد. آرزوها، انسان را به حرکت وا ميدارد. انتظار، اعتراض دائمي برضد بيعدالتيها است؛ نجات از سکون و رکود است، در صحنهبودن است. انتظار، نقش مهمي در سازندگي، پويايي و اصلاح فرد و جامعه در زمان غيبت دارد. اگر انسان منتظر، به وظايفي که براي او شمرده شده است عمل کند، به الگوي مطلوب انسان ديندار دست مييابد. انتظار مهدي عجل الله تعالي فرجه الشريف اقتداي به او، بيعت با او و سرسپاري به فرمان او است؛ سنگرباني عقيده، مرزباني انديشه و مبارزه در راه پاسداري از حريم دين و ولايت است. انتظار فرج، کار است، حرکت است، تلاشي هدفمند است و با بيهدفي، سکون و تنآسايي سازگاري ندارد. مگر ميشود در انتظار سرسبزي روزگاران بود و در فصل برگريزان، از پا نشست؟ منتظر، تلاشگري نستوه است که برابر هر انحرافي ميايستد و با الهام از شيوه و آيين امام و مقتداي مورد انتظار خويش، در راه اصلاح خود و جامعهاش به جهاد و مقاومت ميپردازد. از آن زمان که فرشتگان الهي به امر خدا، برابر حضرت آدم عليه السلام سر به سجده فرود آوردند، بحث از انتظار موعودي از سلالة آخرين پيامبر الهي به ميان آمد. ديگر اين، وظيفه تمام فرستادگان آسماني شد که منتظر باشند و ديگران را هم به انتظار دعوت کنند. آن زمان که لوط، برابر فاسدان قوم خود قرار گرفت و گفت: «کاش براي مقابله با شما قدرتي داشتم يا به تکيهگاهي استوار پناه ميجستم»[1] انديشه انتظار قائم، در روح و جانش جاري بود. امام صادق عليه السلام فرمود: حضرت لوط عليه السلام اين سخن را نگفت، مگر براي تمناي دسترسي به قدرت قائم ما. و آن تکيهگاه استوار، چيزي نبود، جز استواري و توانايي ياران او ... [2]. انتظار، در زمان غيبت و عدم حضور ظاهري امام در جامعه، به نوعي، اعلام پذيرش ولايت و امامت آخرين وصي پيامبر خاتم صلي الله عليه و آله و سلم است و همين انتظار موجب ميشود ارتباط شيعيان با امامشان ـ اگرچه به صورت ارتباط قلبي و معنوي ـ حفظ شود. اما بهراستي منتظر واقعي کيست؟... منتظر واقعي، کسي است که به امامش معرفت داشته باشد؛ يعني اعتقاد به ولايت و معرفت به شخصيت او. اعتقاد به ولايت، تعهد و پيماني است که جز با اطاعت کامل نميشود. کسي منتظر واقعي است که علاوه بر خودسازي به ديگرسازي نيز بپردازد، تا از اين طريق، زمينههاي ظهور آن حضرت را فراهم سازد. پيامبر اکرم صلي الله عليه و آله و سلم پيش از اينکه ستاره پرفروغ امامت امامان عليهم السلام طلوع کند، برترين جهاد امتش را انتظار فرج دانسته است؛ زيرا انتظار فرج، انتظار جهاد و انقلابي عظيم بر ضد تمام ظلمها و جنايتها و اجراي عدالت به تمام معنا در سراسر جهان است. حضرت علي عليه السلام در حديثي فرموده است: کسي که در انتظار اقامة نماز به سر برد، در طي زمان انتظارش، در حال نماز به شمار ميرود.[3] پس کسي که در انتظار اقامة دين حق و برپايي دستورهاي الهي در سراسر جهان است، چه پايگاه و منزلتي دارد؟ در زندگي ظاهري دنيا، هر امام، در عصر خود به حمايت و ياري پيروان و شيعيان خود نياز دارد. امام، اگر علي عليه السلام هم باشد، اگر حمايتگري نيابد و شاهد خيانت دوستان باشد، مجبور به خانه نشيني است، تا چه رسد به امامي که در غيبت بهسر ميبرد و انقلاب بسيار عظيمي در پيش دارد که فقط با حمايت پيروان و شيعيانش تحقق خواهد پذيرفت. اگر منتظر بازگشت يوسف زهراييم، آيا آماده استقباليم؟ ... عاشق و دلباختة گل نرگس، منتظر نشانه و علامت نيست؛ بلکه منتظر خود حضرت است و ميداند اين آمادگي، جز با اطاعت از فرامين آن امام بزرگوار، بهدست نميآيد. حضرت ولي عصر عجل الله تعالي فرجه الشريف فرمود: پس هر يک از شما بايد به آنچه به وسيلة آن به دوستي ما نزديک ميشود عمل کند و آنچه از جانب او، ما را به خشم و ناراحتي نزديک نمايد دوري کند؛ زيرا فرج ما آني و ناگهاني فرا ميرسد. اين حديث، وظيفة ما را به خوبي مشخص ميکند و ما را متوجه اين امر ميکند که در هر حال بايد آمادة ظهور حضرت باشيم. امام صادق عليه السلام فرموده است: براي ظهور و قيام حضرت قائم عجل الله تعالي فرجه الشريف خود را مهيا سازيد؛ گرچه اين آمادگي در حد فراهم کردن يک تير باشد.[4] حضرت، براي برپايي عدالت، قيام مسلحانه ميکند. در حقيقت، اين حديث ميخواهد بگويد کسي که طالب ظهور آن حضرت است، بايد در جهت زمينهسازي نهايت جهاد و کوشش را بنمايد. امام هادي عليه السلام فرمود: قائم آل محمد، مهدي عجل الله تعالي فرجه الشريف است که واجب است در زمان غيبتش منتظر او باشند و زمان ظهورش، مطيع باشند. بنابراين امام معصوم در اين حديث، انتظار امام زمان عجل الله تعالي فرجه الشريف را واجب دانسته است. با توجه به جايگاه بلندي که انتظار در مکتب شيعه دارد و تأکيدها و سفارشهاي فراوان پيامبر صلي الله عليه و آله و سلم و امامان معصوم عليهم السلام بر موضوع انتظار فرج، شيعيان بايد به اين موضوع اهتمام بيشتر و توجهي درخور داشته باشند. بايد مراقب بود اعتياد به غيبت امام، گريبانگير ما نشود. هماکنون هزار و اندي سال از غيبت آن امام معصوم ميگذرد و هنوز اذن ظهور از ناحيه ذات اقدس اله صادر نشده است. چرا تأخير؟... يقيناً تأخير از ما است؛ زيرا طبق فرمايش مولايمان، اين ما هستيم که يکدل نشدهايم و در راه او بهطور شايسته، قدم بر نداشتهايم: اگر شيعيان ما که خداوند آنان را در بندگياش ياري کند، در عهد و وفاي به ولايت ما يکدل و يکصدا بودند، ميمنت ديدار و ظهور ما اينقدر به تأخير نميافتاد.[5] عدم وفاي به عهد پيروانش، موجب محروميت جهان بشريت از اين فيض بزرگ خدايي شد. آيا جز اين است که زندان غيبت، دستان يداللهي او را بسته است و از تزلزل و تحير بشريت در غم و اندوه به سر ميبرد و با دلي غمگين، همگان را به دعا براي تعجيل در فرج خويش فرا ميخواند هميشه دردهايمان را براي حضرت سوغات نبريم؛ بلکه به وظايفمان مقابل حضرت که يکي از آنها دعاي بسيار براي تعجيل در ظهور او است اهميت دهيم. به راستي آيا براي ما عذري در کوتاهي از اين دعاي مهم باقي ميماند؟ چرا که بهترين و مؤثرترين عملي که بتوان با آن پدر مهربان ارتباط برقرار کرد و بسيار در تعجيل ظهورش مؤثر ميباشد، دعا است. مولاي ما! شب سياه غيبت تو بس طولاني شده است. بسياري در اين سياهي شب به سوي دنيا ميگريزند؛ اما سپيده دم که آنها دورش ميپندارند، به زودي آشکار خواهد شد. هميشه دردهايمان را براي حضرت سوغات نبريم _________________________________________ [1] .سوره هود،آيه80.. 2.بحار الانوار،ج12،ص 158. [3] . بحارالانوار، ج7، ص255. [4] . همان، ج52، ص366. [5] . همان، ج53، ص177. امان :: آذر و دي 1386، شماره 8
+ نوشته شده در سه شنبه سوم دی ۱۳۹۲ساعت 18:17  توسط سید انعام علی نقوی
|
بسم الله الرحمن الرحیم بحث امروزمان بحث ظلم است و هر كدام از ما به یك نحوی گرفتار ظلم هستیم. گاهی ظلم میكنیم و گاهی مورد ظلم قرار میگیریم و در قرآن هم چند مرتبه در مورد بحث ظلم و ظالمین سخن به میان آمده است. میخواهیم بحث ظلم را داشته باشیم و بعد به یك نتیجههایی برسیم. خدا كند این بحث ما مفید و موثر باشد، هم برای دنیا فایده داشته باشد و هم ذخیره قیامت ما باشد. در بحث ظلم اول سراغ قرآن برویم و هشدارهایی كه قرآن به ظالم داده است مطرح كنیم. آیات زیادی در این زمینه وجود دارد و من بخاطر اینكه پای تلویزیون حوصلهای برای نوشتن نیست به طور خلاصه میگویم. «لا یَهْدِی الْقَوْمَ الظَّالِمینَ»(بقره/258) افرادی كه ظلم میكنند خدا لطفش را از آنها برمی دارد. هدایتشان نمیكند. راه حق را پیدا نمیكنند و در باطل گم میشوند. «إِنَّهُ لا یُفْلِحُ الظَّالِمُونَ»(انعام/21) افرادی كه ظلم میكنند رستگار نمیشوند «لَنُهْلِكَنَّ الظَّالِمینَ»(ابراهیم/13) قرآن میگوید: پدر ظالم را در میآوریم. «أَلا لَعْنَةُ اللَّهِ عَلَى الظَّالِمینَ»(هود/18) «بُعْداً لِلْقَوْمِ الظَّالِمینَ»(هود/44) «وَ ما لِلظَّالِمینَ مِنْ أَنْصارٍ»(بقره/270) روز قیامت ظالم یار و یاور ندارد. «وَ سَیَعْلَمُ الَّذینَ ظَلَمُواای مُنْقَلَبٍ یَنْقَلِبُونَ»(شعراء/227) به ظالمها خواهم گفت كه چه عاقبت تلخی خواهند داشت. «ما لِلظَّالِمینَ مِنْ حَمیمٍ وَ لا شَفیعٍ یُطاعُ»(غافر/18). افرادی كه ظلم میكنند ممكن است اینجا یك باندی باشند و كمك هم كنند، ولی روز قیامت حمیمی نیست. «حَمیمٍ» یعنی رفیق دلسوز. «حمیم» یعنی داغ داغ. حمام میگویند چون در حمام آب داغ است. «حَمیمٍ» یعنی رفیق داغ. آنوقت آنجا میگوید در قیامت رفیقهایی كه در دنیا خیلی رفیق داغ داغ بودند، آنجا یخ یخ میشوند. «ما لِلظَّالِمینَ مِنْ حَمیمٍ». «فَوَیْلٌ لِلَّذینَ ظَلَمُوا مِنْ عَذابِ یَوْمٍ أَلیمٍ»(زخرف/65) وای بر ظالمین. «وَ أَمَّا الْقاسِطُونَ فَكانُوا لِجَهَنَّمَ حَطَباً»(جن/15) آتش گرفته و در دوزخند. «تَرَى الظَّالِمینَ مُشْفِقینَ مِمَّا كَسَبُوا»(شورى/22) روز قیامت كه پرونده باز می-شود، ظالم سرش را پایین میاندازد و شرمنده است. تعبیرات: خدا ظالم را هدایت نمیكند. ظالم روی رستگاری را نخواهد دید. ظالم تحت تعقیب قهر خداست، ظالم قیامت یار نخواهد داشت. وای بر ظالم. ظالم آتش زننده دوزخ است، پرونده ظالم وقتی كه روز قیامت باز میشود «مُشْفِقینَ مِمَّا كَسَبُوا» شرمنده است. اینها هشدارهای قرآن نسبت به ظالم است. افرادی كه ظلم میكنند لذت نبرند از اینكه مثلاً كسی را چاپیدیم، كلاه سرش گذاشتیم، احتكار كردیم، رشوه گرفتیم، اذیتش كردیم، حقش را خوردیم، خوشی نكنند. چون «لَا خَیْرَ فِی لَذَّةٍ مِنْ بَعْدِهَا النَّارُ»(أمالى صدوق، ص498). امیرالمومنین(ع) میفرماید: «لَا خَیْرَ فِی لَذَّةٍ» خیر نیست در لذتهایی كه «مِنْ بَعْدِهَا النَّارُ» بعدش باید انسان گرفتار آتش شود. آن كیفی كه بعدش آتش است، كیف نیست «لَا خَیْرَ فِی لَذَّةٍ مِنْ بَعْدِهَا النَّارُ». خیر نیست در لذتهایی كه بعدش آتش است. دنیا خیلی كوچك است. چند سالی بیشتر نیست، آخرت حسابش مشكل است. اما هشدارهای قیامت: (حدیثهایی كه میخوانم از كتاب كافی، بحار جلد 71، بحار جلد 72 و كافی جلد 2 است) قرآن میفرماید: «وَ كَذلِكَ نُوَلِّی بَعْضَ الظَّالِمینَ بَعْضاً بِما كانُوا یَكْسِبُونَ»(انعام/129) كسی كه ظلم كند یك ظالم قویتری را بر او حاكم میكنیم، مزد اول ظالم این است كه یك كسی را وادار میكنیم كه او هم به او ظلم كند. حدیث داریم «مَا انْتَصَرَ اللَّهُ مِنْ ظَالِمٍ إِلَّا بِظَالِمٍ وَ ذَلِكَ قَوْلُهُ عَزَّ وَ جَلَّ وَ كَذلِكَ نُوَلِّی بَعْضَ الظَّالِمِینَ بَعْضاً»(كافى، ج2، ص334) خدا ظالم را توسط یك ظالم دیگر تنبیه میكند. «مَنْ ظَلَمَ عِبَادَ اللَّهِ كَانَ اللَّهُ خَصْمَهُ دُونَ عِبَادِهِ»(نهجالبلاغه، نامه 53) اگر ظلم به كسی بكنی، خدا دشمن توست. حتی اگر ظلم به زن و بچهات بكنی. بچه كوچك را نمیشود بی جهت دعوایش كرد، بچه بلد نیست، ظرف را بر میدارد برود در آشپزخانه، نمیتواند، سنگین است، میافتد و میشكند. شما حق ندارید داد بزنید. میتوانید از دستش بگیرید اما اگر طاقت نداشت افتاد و ظرف شكست حق نداریم داد بزنیم. ظلم چه آثاری دارد؟ حدیث داریم: «بالظلم تزول النعم»(غررالحكم، ص456). حدیثی دیگر است كه «الذُّنُوبُ الَّتِی. . . تُنْزِلُ النِّقَمَ الظُّلْمُ»(كافى، ج2، ص447) حدیثی دیگر «یخرب القلوب» نعمتی را كه خداوند به انسان بدهد، اگر انسان ظلم بكند خدا نعمت را میگیرد. اگر نعمتی داریم خدا از ما گرفت، معلوم است كه ظلم كردیم. در دعای كمیل میخوانیم ِ «اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِیَ الذُّنُوبَ الَّتِی تُنْزِلُ النِّقَمْ»(مصباحالمتهجد، ص844) خدایا بیامرز گناهی را كه بدبختی برایم میآورد. امام صادق میفرماید: میدانی چه گناهی تو را بدبخت میكند؟ ظلم است كه انسان را بدبخت میكند. ظلم خوشبخت را بدبخت میكند، ظلم نعمت را میگیرد. «یخرب القلوب» ظلم روح تو را از بین میبرد، دل رحیم را قسی میكند. مهربان بودیم سنگدل شدیم روح پاك را ظلم از بین میبرد. امام سجاد فرمود: اگر كسی به مسلمان و برادر دینیش ظلم بكند، از مدار ما اهل بیت خارج میشود. یعنی ما قبول نداریم كه او شیعه علی بن ابیطالب است. امام باقر فرمود: كسی اگر ظلم بكند نمرده در دنیا چوبش را میخورد، ظلم از آن گناههایی نیست كه خدا بگوید در آخرت جوابش را میدهد، در همین دنیا خدا پس گردن ظالم میزند، خوشحال نباشید كه زدید، بردید، خوردید. چند حدیث داریم(در كافی و بحار) اگر مظلومی آه بكشد، آه مظلوم بالا میرود و دعایش مستجاب میشود. حدیثی دیگر داریم میفرماید: مظلومان بدانند مظلوم از دین ظالم میگیرد، اگر ظالم از دنیای مظلوم میگیرد. اگر ظالم از دنیای مظلوم گرفت به همان مقدار مظلوم هم از دین ظالم میگیرد. حدیث داریم كه در روز قیامت هر كار خوبی كه ظالم كرده است، میگیرند و به مظلوم میدهند و اگر ظالم هیچ كار خوبی ندارد، گناهان مظلوم را میگیرند و به ظالم میدهند. اگر ظالم خوبیهایی دارد خوبیش را میگیرند و به مظلوم میدهند. اگر ظالم هیچ خوبی ندارد گناهان مظلوم را میگیرند و به ظالم میدهند. ظلم در دنیا ظلمات در قیامت است. اما انگیزههای ظلم: چرا انسان ظلم میكند؟ ریشههای ظلم را ما امروز میگویم، البته من نمیخواهم بگویم منحصر به اینهاست. ممكن است چیزهای دیگری هم باشد. چرا ظلم میكنیم؟ اولین ریشه ظلم ضعف ایمان است. تقوی و ایمان به قیامت نداریم. اگر بدانیم كه هر ظلمی كه میكنیم، سیلیش را میخوریم. اگر ایمانمان به خدا و قیامت بیشتر باشد، ظلم نمیكنیم. تقوی باشد حتی به یك مورچه ظلم نمیكنیم، تا چه رسد به انسان. شخصی آمد منزل امام صادق(ع)، رنگ آقا پریده بود! گفت: آقا چرا رنگتان پریده است؟ گفت: وارد خانه شدم به زنها گفته بودم حق ندارید پشت بام بروید. دیدم یكی از زنهایی كه در خانه بود، بچه مرا بغل كرده و از نردبان بالا میرود. چون بارها گفته بودم این كار را نكنید، تا من وارد خانه شدم، دید خلاف كرده ترسید و بچه ازدستش افتاد و بچهام مرد. بعد امام صادق(ع) میفرماید: ناراحت از مرگ بچهام نیستم. ناراحتم كه چرا یك زنی را بی جهت ترساندم. از اینكه یك مسلمان را ترساندم ناراحتم. كسی اگر بداند مال یتیمی را كه میخورد از كجاست. . . ما یادمان میرود. چقدر خوبست كه روی میزهای ادارهها هر كدامی یك پارچه سرخ به اندازه كف دست بگذارند كه صبح به صبح یادشان باشد كه میزی كه پشتش نشسته، پایشان روی خون شهداست. یك تكه پارچه سرخ زیر میز باشد. كه آدم صبح به صبح نگاه كند و ببیند كه پشت میزی نشسته كه پایه میز روی خون شهداست. ما یادمان میرود «نَسُوا اللَّه»(حشر/19) خدا یادمان رفته «نَسُوا اللَّه» قرآن میفرماید: «نَسُوا یَوْمَ الْحِسابِ»(ص/26) قیامت را یادمان رفته است. اگر یاد خدا و یاد قیامت باشیم، ظلم نمیكنیم. دومین ریشه ظلم محیط آلوده است. محیط آلوده و محیط فاسد آدم را ظالم میكند. كسی كه دید همشاگردیها و هم شهریها و همسایهها و هم ماشینیها و همكارها و. . . و دورتا دورش ظلم است این هم ظالم میشود. رقابت وسیله ظلم است، چرا زن زور میگوید و به شوهرش ظلم میكند؟ این خانم برای اینكه میگویدخواهرم این پارچه را گرفته جاریم هم این را گرفته من زمین و آسمان را میدوزم تو هم باید این پاچه را بگیری. بسیاری از ظلمها از روی رقابت است. ریاست طلبی باعث ظلم است قدرت طلبی باعث ظلم است. اظهار قدرت باعث ظلم است ترس از دادن قدرت باعث ظلم و. . . چرا ظلم میكنند؟ در دنیا ظلمهایی كه میشود بعضی قدرت دارندظلم میكنند و میترسند اگر ظلم نكنند قدرت را از دستشان بگیرند. هارون الرشید آمد سر قبر پیغمبر گفت: یا رسول الله! میدانی چرا امام كاظم را زندان كردم؟ میترسم امام كاظم بیرون از زندان باشد و شیعیان را دور خودش جمع كند و در نهایت حكومت را از من بگیرد. پس من پیشگیری میكنم. تا او قدرت پیدا نكرده من او را زندان میكنم تا او قدرت پیدا نكند. اینها عامل ظلم است. عقدهها وسیله و انگیزه ظلم است. كمبود دارد. دارد میرود تو اگر انسان سالمی درست راه برو. یك الاغی ایستاده است یك میخی، سیخی، پاشنه كشی و. . . در میآوردو میزند زیرش، میگوید: برو! میگوییم: آقا چه خبر است؟ اصلا یك كمبود اخلاقی دارد. از خانه كه میخواهد برود مدرسه، پاشنه كش را در میآورد و همینطور به دیوار خانه همسایهها میكشد. میپرسیم: آقا چرا كردی؟ میگوید: نمیدانم! كمبود و عقده است. گاهی ظلم میشود بخاطر عدم اجراء حدود الهی! یعنی حدود الهی اجرا نمیشود. ظالم را تنبیه نمیكنند و به همین خاطر مردم جرات ظلم پیدا میكنند. این قرآنی كه میگوید: اگر كسی خلاف كرد، روبروی مردم شلاقش بزنید برای این است تا مردم حواسشان جمع باشد. عدم اجراء حدود از طرف دولت میتواند وسیله ظلم بشود. عدم اجرای نهی از منكر از طرف ملت میتواند وسیله ظلم بشود. مردم میگویند: بما چه! اگر دولت حدود الهی را اجرا نكند و اگر مردم بی تفاوت شوند، ظالم در این محیط رشد پیدا میكند. گاهی وقتها لقمه حرام، عدم نهی از منكر، عدم اجرای حدود از دولت و. . . وسیله ظلم است. لقمه حرام وسیله ظلم است. اینها همه حرف مفصل دارد منتهی من سرانگشتی بیان میكنم و گرنه خود لقمه حرام یك ساعت حرف دارد. چه لقمهای حرام است؟ لقمه حرام چه كارها كه نمیكند؟ گاهی اشتغال زیاد وسیله ظلم است. چند كار به عهده گرفته است و به هیچ كدام از كارها نمیرسد. عصبانی میآید. میگوید: حرف نزن! به خانمش ظلم میكند، چون در اداره و بازار خسته خودش را میكند. به بچهاش كتك میزند چون سرش شلوغ است. برخوردش با رئیس دفترش، با معاونش و. . . تند است. گاهی بد اخلاقیها و بد پرخاشیها و ظلم به افراد به خاطر این است كه كار فرد زیاد است. 8 ساعت كار در روز و خلاص. مملكت از دست رفت. تو داری خودت را از دست میدهی. نتیجه 15 ساعت كار در روز این است كه سال دوم و سوم شخص استعفا میدهد. حدود 90 درصد آقایان پر كار استعفا نوشتهاند. ما در جمهوری اسلامی چند تایی داریم آدمهای پر كاری كه دست به استعفا نزدهاند. آدمی كه زیاد كار كرد به روغن سوزی میافتد. دلیل ندارد كه بیش از مقدار وظیفهات كار بكنی. خداوند به پیامبر میگوید: «ما أَنْزَلْنا عَلَیْكَ الْقُرْآنَ لِتَشْقى»(طه/2) من قرآن را نفرستادم كه تو خودكشی كنی. «لَعَلَّكَ باخِعٌ نَفْسَكَ»(شعراء/3) چقدر خودت را میخوری؟ همین مقدار كه هست، كافی است. قرآن میگوید: «وَ أَنْ لَیْسَ لِلْإِنْسانِ إِلاَّ ما سَعى»(نجم/39) نمیگوید: «الا ما اتی» و یا نمیگوید: «الا ماعمل» نمیگوید كه من از تو عمل میخواهم و یا من از تو انجام كار میخواهم. میگوید: من از تو سعی میخواهم. اگر سعیت را كردی خلاص. چه عملی بشود چه نشود، فرقی نمیكند. چه كار صورت بگیرد چه نگیرد، فرقی نمیكند. «ما اتی و ما عمل» ممنوع است. «لَیْسَ لِلْإِنْسانِ إِلاَّ ما سَعى» رهبر كبیر انقلاب در نامهای كه به شوروی مینویسد، میگوید: فكر كنید و ایمان بیاورید. امام كه این نامه را نوشت پایانش نوشت روح الله الموسوی الخمینی(اللهم صل علی محمد و آل محمد 3) امضاء كه تمام شد خداوند اجر دویست میلیون مسلمان را به حساب امام واریز كرد. چون امام سعی خودش را كرد. حالا نپذیرند یا بپذیرند. برای خدا فرقی ندارد. در نامه فرموده بود كه اسلام نیاز به مسلمانی شما ندارد. خود خدا در قرآن میگوید: «إِنْ تَكْفُرُوا أَنْتُمْ وَ مَنْ فِی الْأَرْضِ جَمیعاً»(ابراهیم/8) اگر شما و همه مردم كره زمین كافر بشوند، هیچ طوری نمیشود «إِنْ تَكْفُرُوا أَنْتُمْ وَ مَنْ فِی الْأَرْضِ جَمیعاً» اسلام نیازی به ما ندارد. این ما هستیم كه نیاز به اسلام داریم. اگرگفتند دستت را در آب بزن، به این معنی نیست كه دریا نیاز به دست ما دارد. برای این است كه دست خود ما پاك میشود. چرا انسان ظلم میكند؟ زمینههای ظلم چیست؟ «نَسُوا اللَّه»، «نَسُوا یَوْمَ الْحِسابِ» ایمان ضعیف، محیط فاسد، چشم و هم چشمی، ریاست خواهی و قدرت طلبی و عقدهها، جاری نشدن حق، بی تفاوتی مردم، لقمه حرام، پركاری و. . . اینها گوشهای از زمینهها و انگیزههای ظلم است. و اما مسئله مهم اینكه در برابر ظالم چه كنیم؟ در برابرمظلوم چه كنیم؟ یك مقداری در این زمینه هم با هم از آیات و روایات صحبت كنیم. بحث این است اول كه در مقابل ظالم باید بایستید. حدیث داریم ظالم و مظلوم هر دو به جهنم میروند. سوال شد: ظالم درست است. مظلوم چرا به جهنم می رود؟ فرمود: برای اینكه به مظلوم میگویند كه چرا زیر بار ظلم ظالم رفتی؟ قرآن میفرماید: «وَ الَّذینَ إِذا أَصابَهُمُ الْبَغْیُ هُمْ یَنْتَصِرُونَ»(شورى/39) مومنین كسانی هستند كه اگر به یكی از آنها ظلم شد، همدیگر را با «الله اكبر» صدا میكنند. نباید زیر بار ظلم رفت. مومنین كسانی هستند كه «إِذا أَصابَهُمُ الْبَغْیُ» وقتی ظلم به آنها اصابت كرد «هُمْ یَنْتَصِرُونَ» داد میزنند و دیگران را به استمداد میخواهند. باید در مقابل ظالم فریاد زد. نیرو جمع كرد و زیر بار ظلم نرفت. تكیه به ظالم نكنید. قرآن میفرماید: «وَ لا تَرْكَنُوا إِلَى الَّذینَ ظَلَمُوا»(هود/113) كسی كه ظلم میكند یاریش نكنید. «فَلا تَقْعُدْ بَعْدَ الذِّكْرى مَعَ الْقَوْمِ الظَّالِمینَ»(انعام/68)، با ظالم ننشینید. «وَ لا تُطیعُوا أَمْرَ الْمُسْرِفینَ»(شعراء/151) از ظالم پیروی نكنید. «فَلَنْ أَكُونَ ظَهیراً لِلْمُجْرِمینَ»(قصص/17). یار ظالم نباشید. تكیه نكنید، یار نباشید، با ظالم ننشینید، و اگر كسی در مقام دفاع از مال و ناموس و آبرویش كشته شود و در مقابل ظالم بلند شود، بایستد. مثلاً كسی آمده خانهات دزدی كند، آمده به ناموست حمله كند، بلند شدی جلویش را بگیری، دزد ترا كشت، حدیث و اسلام میگوید كه ثواب شهید در جبهه را داری. البته این برای ظالم قلدر است! خودیها اگر یك زمان بهم ظلم كردند «وَ اعْفُ عَمَّنْ ظَلَمَكَ»(تحفالعقول، ص305) خودی را باید بخشید، چون ببینید این دو گاهی با هم برادرند، حالا یكی از این برادرها كت دیگری را پوشید، ماشین دیگری را سوار شد، كفش دیگری را پا كرد. برادرند و در یك مدار اگر هستند، باید ببخشید. حتی اگر او كتكت زد، بگو تو را بخشیدم. قرآن میگوید: «لَئِنْ بَسَطْتَ إِلَیَّ یَدَكَ لِتَقْتُلَنی ما أَنَا بِباسِطٍ یَدِیَ إِلَیْكَ لِأَقْتُلَكَ إِنِّی أَخافُ اللَّهَ رَبَّ الْعالَمینَ»(مائده/28). دو برادر بودن هابیل و قابیل! پسرهای حضرت آدم. یكی گفت من ترا میكشم. دیگری گفت: تو اگر دست درازی بكنی من دست درازی نمیكنم. پس ببینید یكوقت مدار خانواده است، نگو كه او زد من هم باید بزنم. یكی برای من برای بیگانه هاست. برای خودیها «وَ اعْفُ عَمَّنْ ظَلَمَكَ»(تحفالعقول، ص305) «صِلْ مَنْ قَطَعَكَ»(تحفالعقول، ص305) او قطع رابطه كرد، تو به دیدنش برو. او تلفن نمیكند، تو به او زنگ بزن. او سلام نمیكند، تو به او سلام كن. «لَئِنْ بَسَطْتَ إِلَیَّ یَدَكَ لِتَقْتُلَنی» اگر برای تجاوز دست دراز كنی «ما أَنَا بِباسِطٍ یَدِیَ إِلَیْكَ لِأَقْتُلَكَ» خودی یك مدار دارد و بیگانه مدار دیگری دارد. در مقابل ظالم كار ظالم را توجیه نكنید. آخر میگویند كه یك دروغگو یك دروغ پرداز هم میخواهد. گاهی افرادی ظلم میكنند، بغل دستیش هم میگوید كه چارهای نبود. چرا چارهای نبود؟ چارهای نبود یعنی چه؟ «مَنْ عَذَرَ ظَالِماً بِظُلْمِهِ سَلَّطَ اللَّهُ عَلَیْهِ مَنْ یَظْلِمُهُ فَإِنْ دَعَا لَمْ یَسْتَجِبْ لَهُ وَ لَمْ یَأْجُرْهُ اللَّهُ عَلَى ظُلَامَتِهِ»(كافى، ج2، ص334) امام صادق فرمود: كسی كه ظلم ظالم را توجیه كند، یعنی كاسه ماست دست گرفته هر جا فلانی ظالم بود ماست مالی میكند، توجیه میكند. «سَلَّطَ اللَّهُ عَلَیْهِ مَنْ یَظْلِمُهُ» خدا بر او كسی كه به او ظلم كند مسلط میكند و دعایش مستجاب نمیشود. حدیث داریم «لَا تُعِنْهُمْ عَلَى بِنَاءِ مَسْجِدٍ»(تهذیبالأحكام، ج6، ص338). اگر ظالم مسجد هم میسازد، كمكش نكنید. چون این مسجد سرپوش ظلمش است. هارون الرشید شتر اجاره كرد مكه برود. امام كاظم به صاحب شتر فرمود اشتباه كردی كه به او شتر اجاره دادی. گفت: آخر شتر دارم، میآیند كه اجاره كنند. من چه خاكی بر سرم كنم؟ برای اینكه نجات پیدا كند، رفت شترهایش را فروخت. هارون گفت چطور شد كه همه را فروختی؟ گفت: دیگر پیر شدم. هارون گفت: نه! تو پیر نشدی، شترهایت را فروختی تا شتر نداشته باشی كه به مثل من حتی برای مكه اجاره بدهی. باید از ظلم فرار كنیم. یك شب از بهلول خاطرهای را دیدم، بقدری عاشق شدم كه غسلی كردم و رفتم حرم امام رضا(ع) چون حدیث داریم هر كس غسل كند، برود حرم امام رضا را زیارت كند و دو ركعت نماز بخواند، آنچه در قنوتش میگوید مستجاب میشود. گفتم من به عشق بهلول یك زیارت امام رضا كه در حدیث گفته بروم. حالا مطلب چه بود كه عاشق شدم؟ خواستند بهلول یك جایی را امضاء كند، یك قضاوتهایی بكند، گفت: آقا بمن مهلت بدهید، من خودم را قابل نمیدانم. دید اجباری است و باید از طریق حكومت زور قضاوت را قبول كند. گفت: پس صبر كنید تا فكر كنم. فكر كرد كه خودش را به دیوانگی بزند كه زیر بار امضاء ناحق نرود. فردا عمامهاش را چپه گذاشت، لباسهایش را چپه پوشید، یك دسته چوب بیل برداشت و این چوب بیل را بین دو پایش گذاشت، سر چوب را گرفت، دم دسته بیل هم زیر عبا و قبایش بود. در خیابان مكرر بالا و پایین پرید و گفت: اسبم لگدت نزند! مردم كوچه و بازار همه خندیدند. بهلول عالم، فقیه و مجتهد بود. خودش را به دیوانگی زد، به ریئس دربار رفتند و گفتند: فلانی دیوانه شده است. گفت: نه خیلی هم عاقل است، ولی خودش را به دیوانگی زده تا امضاء ناحق نكند. میارزد كه انسان خودش را به دیوانگی بزند ولی زیر بار زور نرود. خدا به سگهای ولگرد روزی میدهد. خدا به سوسكهای سوراخها روزی میدهد. یك لقمه نان ارزش اینكه ما ظلم كنیم ندارد. حتی در ساختمان مسجد ما و ظالم باید برخورد داشته باشیم. اگر كسی در صورت ظالم بخندد گناه است. قرآن میگوید روز قیامت افرادی میگویند: «رَبَّنا آتِهِمْ ضِعْفَیْنِ مِنَ الْعَذابِ»(احزاب/68). خدایا عذاب اینها را دو برابر كن. خدایا ما كه در جهنم میسوزیم خدا عذاب این رهبران كج را دو برابر كن. خداوند میگوید: «لِكُلٍّ ضِعْفٌ»(اعراف/38) خوب رهبرها دو برابر حقشان است. گدا چرا دیگر دو برابر؟ علامه طباطبایی در تفسیر میگوید رهبران كج دو برابر چون هم كج رفتند و هم گروهی را به راه كج بردند. در ادامه میگوید: گداها هم كج رفتند و هم با كف زدن و صلواتشان كج روها را تشویق كردند. نگو ما نخ بودیم، شل بودیم. اگر كنار سوزن نمیرفتی، سوزن بی نخ را كسی در پارچه فرویش نمیكرد. بخاطر همین نخ تو بود كه سوزن را در پارچهها فرو كردند. پس اگرعقب ظالم برویم شریك ظالم هستیم، اگر كسی ظلم كند، كسی كه یارش باشد و كسی كه بشنود و شاد شود. این سه گناه مثل هم هستند. مواظب باشید اگر یك كسی یك سیلی زد، نگو خدا پدرش را بیامرزد. صبر كن ببینیم خدا پدرش را بیامرزد یا خدا پدرش را نیامرزد. زود قضاوت نكنیم. اول انقلاب بود. یكی میگفت: «اعدام باید گردد» یكی این وسط نمیگفت: «محاكمه باید گردد و بعد از محاكمه یا آزاد باید گردد، یا اعدام باید گردد» با كمال تاسف در بعضی روزنامهها خلاف شرع میشود، یعنی در جامعه قبل از آنی كه فلانی را ببرند دادگاه ببینند بله؟ یا نخیر؟ قبل از ثابت شدن جرم آبروی كسی را میبرند و بزرگترین ظلمها، ظلم به آبروست. به همین خاطر قرآن میگوید: «غیبت مثل گوشت مرده میماند» حال چرا مثل گوشت مرده؟ چون گوشت زنده را بكنید جایش پر میشود، پول كم بشود جایش پر میشود، ساختمان خراب بشود جایش پر میشود، غیبت آبروست و آبرو كه رفت جایش پر نمیشود. گوشت مرده جایش پر نمیشود، آبروریزی هم جایش پر نمیشود. شاید هم بخاطر این باشد كه مرده جان ندارد كه از خودش دفاع كند، آن كسی هم كه غیبتش را میكنید نیست كه از خودش دفاع كند. كل حكومت دست ما باشد با ده گناه نمیارزد. به امیرالمومنین(ع) گفتند: هوای فلانی را داشته باش تا حكومت تو بند شود. فرمود: آیا میخواهید من پایههای حكومت را با باج دادن سفت كنم؟ من باج بده نیستم. میگوید: آقا یا ماشین بده یا من استعفا میدهم. ماشین نمیدهم استعفاهم بده، هیچ فرقی نمیكند. خدا به من نگفته حكومت را نگهدارم، خدا بمن گفته كه دینم را نگهدارم و اگر بنا باشد حكومت را با ظلم نگهدارم، من ظالم نیستم، باج نمیدهم. و چون باج نداد، بعضی جنگها شروع شد. اما ما در مقابل مظلوم: امیر المومنین فرمود: حسن جان حسین جان «و المظلوم عنا» مظلوم را دیدی به فریادش برس. حدیث داریم كه اگر كسی ناله مظلوم را شنید و بی خیال خوابید، مسلمان نیست. كسی كه ناله مظلوم را شنید و بی خیال خوابید از ما نیست. اما سجاد در دعاهایش میگوید: خدایا نكند مظلومی دیدم و فراموش كردم كمكش كنم. اگر چنین است مرا ببخش. اگر مظلومی صدایش به مسئولین نمیرسد، شما صدایش را به مسئولین رساندی خدا پایت را روی صراط قیامت محكم نگه میدارد. یعنی تو را از خطر قیامت حفظ میكند «مَنْ أَبْلَغَ سُلْطَاناً حَاجَةَ مَنْ لَا یَسْتَطِیعُ إِبْلَاغَهَا أَثْبَتَ اللَّهُ عَزَّ وَ جَلَّ قَدَمَیْهِ عَلَى الصِّرَاطِ»(قربالإسناد، ص122) كسی اگر نالهای را شنید و دید این آقا گمنام است، كسی گوش به حرفش نمیدهد. الان تاكسی پارتی نداشته باشد یا صدایش آشنا نباشد، بسیاری از جاها كلاهش پس مركه است. شما نالهای میكنی و من صدای شما را میبرم میرسانم. اگر این كار را كردم، اگر من ناله مظلومی را به گوش مسئول رساندم. «أَثْبَتَ اللَّهُ عَزَّ وَ جَلَّ قَدَمَیْهِ عَلَى الصِّرَاطِ» خدا در آن صراط خطرناك ما را حفظ میكند و صراط قیامت هم صراط عجیبی است. خدا ان شاءالله قسمت كند راه كربلا باز شود و مسجد كوفه و مسجد سهله برویم یك فرسخی نجف است، كنارش مسجد زیر است در مسجد زیر دو ركعت نماز میخوانی یك مناجات دارد كه خدایا: «إِذَا قِیلَ لِلْمُخِفِّینَ جُوزُوا وَ لِلْمُثْقِلِینَ حُطُّوا»(المناقب، ج4، ص151) آن وقتیكه میگویید یك عدهای بروند و یك عدهای بیفتند، نمیدانم جزو كدامها هستم. عبور خواهم كرد و یا خواهم افتاد. در همان صراط خطرناك خدا ما را حفظ میكند. «و عزتی و جلالی» پیغمبر فرمود: خدا قسم خورده به عزت و جلال خودش اگر كسی مظلومی را ببیند «رای مظلوما فقدر ینصره» كسی مظلومی را ببیند و بتواند كمكش كند، ولی بی خیال رد شود، خدا قسم خورده ««ولانتقم» من از او انتقام میگیرم. مظلومی را دیدید، رد نشوید. ماشین افتاده در جوی آب، همه بی خیال رد میشوند، ای بی انصافها كمك كنید. فردا خودت هم ماشینت در جوی میافتد. یك زنی شوهرش از خانهاش بیرونش كرده بود. آمد خدمت امیرالمومنین گفت: شوهرم بیرونم كرده است. حضرت فرمود: «لَا وَ اللَّهِ أَوْ یُؤْخَذَ لِلْمَظْلُومِ حَقُّهُ غَیْرَ مُتَعْتَعٍ»(إختصاص مفید، ص157) نمیشود كه علی در خانه بنشینید و شوهر روز بگوید و خانمش را از خانه بیرون كند بلند شد و به خانه او رفت. به شوهرش گفت: چرا زن را اذیتش كردی و از خانه بیرونش كردی؟ او علی را نشناخت، گفت: بتو چه! میخواهم بیرونش كنم! حالا كه این حرف را زده «وَ اللَّهِ لَأُحْرِقَنَّهَا لِكَلَامِك»(إختصاص مفید، ص157) اگر در خانه بیاید، آتشش میزنم. همینطور كه این مرد گردن كلفتی میكرد، حضرت امیر فرمود: من تو را امر به معروف میكنم تو گردن كلفتی میكنی؟ بعد مردم یكی یكی آمدند و به حضرت سلام دادند. این جوان دید همه مردم به ایشان سلام میكنند، پرسید: ایشان كیست؟ گفتند: آقا امیر المومنین است. فوری روی پای حضرت افتاد و عذرخواهی كرد. امیرالمومنین تا میبیند زنی از خانه بیرون رفته خودش شخص اول مملكت برمی خیزد و میرود در خانه شوهر این زن، چرا؟ چون نمیشود بی خیال بود. خدا میداند چقدر ما بی خیالی كردیم، خدایا چقدر ماشین دیدیم كه در جوی افتاده و رد شدیم. چقدر بچهها لباس نداشتند و ما دوتا دوتا لباس داشتیم. چقدر شكمها گرسنه بود و ما سیر خوابیدیم. خدا میداند برای اینكه من آب حمامم داغ باشد، دود حمام را به خانه همسایهها فرستادم و حتی یك كلاهكی كه جلو دود را بگیرد، نگذاشتم. برای اینكه من راحت پارك كنم، بی جا پارك كردم و چه راه بندانی شد. برای اینكه برفهای خانه من تمیز باشد چقدر برفهای را دركوچه ریختم و یخ بست و مردم افتادند. خدا میداند چقدر از ما ظلم سرزده ولی نمینشینیم حسابش بكنیم. اما خدا حسابش را دارد، قیامت حق است. قرآن میفرماید كه روز قیامت «وَ وُضِعَ الْكِتابُ فَتَرَى الْمُجْرِمینَ مُشْفِقینَ مِمَّا فیهِ وَ یَقُولُونَ یا وَیْلَتَنا ما لِهذَا الْكِتابِ لا یُغادِرُ صَغیرَةً وَ لا كَبیرَةً إِلاَّ أَحْصاها وَ وَجَدُوا ما عَمِلُوا حاضِراً وَ لا یَظْلِمُ رَبُّكَ أَحَداً»(كهف/49) پروندهای بازمی شود، مجرم نگاه به پروندهاش میكند میگوید: «ما لِهذَا الْكِتابِ» این چه پروندهای است؟ «لا یُغادِرُ صَغیرَةً وَ لا كَبیرَةً إِلاَّ أَحْصاها» ریز و درشت كارهای من را ضبط كرده است. یكی از مسؤلین مملكتی آمد خدمت امام باقر گفت: من در دستگاه حجاج فرماندا و استاندار بودم، بالاخره یك وضع زندگی خوبی راه انداختم. زمانی در دستگاه طاغوت مسئولیت مملكتی داشتم. حالا میشود توبه كنم؟ «فَهَلْ لِی مِنْ تَوْبَةٍ»(كافى، ج2، ص331) فرمود: توبه تو دعا كمیل و اشك نیست. «حَتَّى تُؤَدِّیَ إِلَى كُلِّ ذِی حَقٍّ حَقَّهُ» توبه تو این است كه تمام اموالی كه به افراد دادی و از افراد گرفتی به آنها پس بدهی. نمی شود كه انسان هر كار میخواهد بكند و در پیری عبا دوش بگیرد و مسجد برود. عبا كفاره كتكها نیست. باید كتكهائی كه زدی بخوری. روزهها را باید قضا كنی. عذرخواهی باید بكنی آقا ببخش ما را، اولیاء خدا گاهی افرادی را میخواستند و میگفتند: آقا من در فلان برخورد به شما ظلم كردم، مرا ببخش! چه اشكالی دارد انسان عذرخواهی كند. انواع ظلم: «ظُلْمُ الضَّعِیفِ أَفْحَشُ الظُّلْمِ»(نهجالبلاغه، نامه 31) بدترین ظلمها ظلم به ضعیف است، انسان بچه را كتك بزند و بگوید: پاشو برو نان بگیر! پاشو برو آب بیاور! پاشو چای به من بده! خوب این بچه میترسد. حدیث داریم كه بدترین آدمها كسی است كه مردم از او بترسند و برایش كار كنند. اگر وارد خانه شدی خانم ترسید، دختر ترسید، بچه ترسید، نگو ماشاءالله این را میگویند «جربزه». اگر جربزه این است، فرعون خیلی جربزهاش از ما بیشتر است. اگر در خانه وارد شدی و دوستت داشتند ارزش است. بدترین آدمها آن كسی است كه مردم از او بترسند. «إِنَّ الشِّرْكَ لَظُلْمٌ عَظیمٌ»(لقمان/13) ظلم به خود كرده «وَ الْكافِرُونَ هُمُ الظَّالِمُونَ»(بقره/254) اگر كسی حق را دید و لج كرد به خودش ظلم كرده است. میگویند یك نوكری با آقایش دعوایش شد، گفت: الان میروم پشت بام و خودم را از پشت بام پرت میكنم، گفت: بدرك میروم و یكی دیگر میآورم. تو ظلم به خودت كردی. «وَ ما ظَلَمْناهُمْ» قرآن بارها گفته كه ما به اینها ظلم نكردیم. پیغمبر فرستادیم با قانون حق این ظلم به خودش كرد. گفتیم اگر میوه ترش میخواهی «لیموترش». میوه شیرین میخواهی «لیمو شیرین» ترش و شیرین میخواهی «انار» گفت: نه ترش میخواهم نه شیرین میخواهم و نه ترش و شیرین میخواهم. من آب جو میخواهم. خوب چه باید كرد. آقا هوای سالم بخور! نه من هوای سالم نمیخواهم. بابا خورشید فرستادم میكروبهای هوا را برای شما بكشد، نمیخواهم. به اقیانوسها امر كردم بخار شود و هوا را لطیف كند، نمیخواهم. به درختها دستور دادم كربن بگیرند و اكسیژن بدهند، نمیخواهم. من سیگار میخواهم. بابا تابش نور برای هواست، بخار اقیانوس برای هواست، درختها و گیاهان برای هواست، آنوقت میگویی نمیخواهم؟ مرگ بر خورشید! مرگ بر اقیانوس! مرگ بر گیاهان! زنده باد سیگار؟ میگوید من همه چیزهائی كه خدا آفریده هوا را سالم كند نمیخواهم. من دود سیگار میخواهم. سیگار قاتلی است كه ما او را محاكمه نمیكنیم، سیگار اسلحهای است كه صدا ندارد، هم ضررش به جان و هم به مال است. البته سیگار دشمن جزئی است. دشمنهای بزرگتر هم هست. «إِنَّ الشَّیْطانَ لِلْإِنْسانِ عَدُوٌّ مُبینٌ»(یوسف/5) آمریكا دشمن بزرگ ما است. از دشمنهای ریز تا دشمنهای بزرگ و. . . ظلم به افراد با آبرو خیلی مهم است. حدیث داریم: «مِنْ أَفْحَش ِالظُّلْمِ ظُلْمُ الكرامِ»(غررالحكم، ص456) آدم هائی هستند كه در فحش بزرگ شدهاند، این فرد خیلی هم برایش فرقی نمیكند. اما یك آدم هائی داریم كه در خانوادههای شریفی هستند و برایشان خیلی سنگین است. مثلاً اگر سه عادل به یك زن پاكی نسبتی دادند و نتوانستند ثابت كنند 240 ضربه شلاق هر كدام باید بخورند. فرد عادل شهادت داد كه فلان زن فلان كاره است، عادل دوم هم همین شهادت را داد، نفر سوم هم به همین نرتیب، اما چون فرد عادل چهارمی پیدا نشد كه شهادت بدهد، باید هر كدام از این سه عادل تا 240 ضربه شلاق بخورند. «والسلام علیكم و رحمة الله و بركاته»
+ نوشته شده در سه شنبه سوم دی ۱۳۹۲ساعت 17:53  توسط سید انعام علی نقوی
|
|